عراق کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق بغداد کے جنوب مشرقی علاقے الامین ،صدر سٹی کے نزدیک واقع شمال مشرقی علاقے الحسینیہ اورمشرقی علاقے کمالیہ کی ایک مارکیٹ میں یکے بعد دیگرے تین کار بم دھماکے ہوئے ہیں اور بغداد کے وسط میں واقع علاقے قرادہ میں سڑک کے کنارے نصب بم کے پھٹنے سے چوتھا دھماکا ہوا ہے۔
پولیس اوربغداد کے اسپتالوں کے حکام نے ان بم دھماکوں میں سینتیس افراد کی ہلاکت اور ایک سو تیس سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔الامین اور الحسینیہ میں بم دھماکوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ہفتے کے روز دوخودکش حملوں میں عراق کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل عون علی سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان ہلاکتوں کے بعد عراق میں رواں ماہ اب تک تشدد کے واقعات میں مہلوکین کی تعداد ڈیڑھ سو ہو گئی ہے۔
فوری طور پر کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن عراق میں القاعدہ سے وابستہ گروپ پر ماضی میں اس طرح بم دھماکے کرانے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے اور ریاست اسلامی عراق ہی کو اہل تشیع کے علاقوں میں ان بم حملوں کا مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔تاہم عراق میں فروری کے دوران متعدد خود کش بم دھماکے کیے گئے ہیں اور ان میں اہل سنت اور اہل تشیع دونوں ہی کو بلا امتیاز نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عراق کے سنی اکثریتی صوبوں سے تعلق رکھنے والے عوام وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور انھوں نےعوامی احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ہزاروں عراقیوں نے بغداد سے اردن اور شام کی جانب جانے والے مرکزی تجارتی شاہراہ پر مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت رمادی کے نزدیک دھرنا دے رکھا ہے اور وہ وزیراعظم نوری المالکی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔عراقی شہریوں نے الانبار کے دوسرے شہروں میں بھی مالکی حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج جاری رکھا ہواہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار