سکیورٹی کے ترجمان کے مطابق کہ ان افراد سے عیسائیت سے متعلق دسویں ہزار کتابیں چھاپنے اور تقسیم کرنے سے متعلق پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔.
لیبیا جہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں کی ہے وہاں دوسرے مذاہب کی تبلیغ کی اجازت نہیں ہے۔
گرفتار ہونے والے لوگوں کا تعلق مصر، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا اور سویڈن سے ہے۔
ترجمان حسین بن حامد نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کی سفارت کاروں سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ابھی ان افراد سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے اور اس کے بعد انہیں انٹیلجنس اہلکاروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔
جب ان اشخاص کو گرفتار کیا گیا تو ان کے قبضے سے عیسائیت سے متعلق پینتالیس ہزار کتابیں برآمد ہوئی تھیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد پچیس ہزار کتابیں پہلے ہی تقسیم کر چکے ہیں۔
پچھلے سال ہلال احمر نے بن غازی اور مصراتہ میں اپنے دفاتر پر حملوں کے بعد لیبیا میں اپنی کارروائیاں معطل کر دی تھیں۔
بعض لوگوں نے ہلال احمر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ عیسائیت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے اور اس نے بن غازی میں بائیبل تقسیم کی تھیں۔
بی بی سی اردو
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار