ہلاک ہونے والوں میں شام کے دس اور ترکی کے تین باشندے شامل ہیں۔ تاہم ابھی دھماکہ کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
دھماکہ پیر کو سرحد پر ترکی کی طرف صوبہ حتاج میں سیلویگزو کسٹم پوسٹ پر ہوا۔جو شامی مہاجرین کے لیے ترکی میں جانے کے لیے مرکزی راستہ ہے۔
ترکی کے نائب وزیرِاعظم بولنٹ ارنیک کے مطابق شامی بس ترکی کی سرحد پر گیٹ سے چند میٹر کے فاصلے پر دھماکے سے اڑ گئی اور وہی پر کثیر تعداد میں عام شہری اور امدادی کارکن بھی جمع تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک زوردار دھماکہ تھا لیکن کیا یہ بارود سے بھری گاڑی یا کسی اور قسم کا دھماکہ تھا یہ واضح ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تمام امکانات پر غور کیا جا رہا ہے اور سیاسی محرکات کو بھی مدِ نظر رکھا جا رہا ہے۔‘
یہ سرحدی پھاٹک شامی سرحد پر با ب الحوا پھاٹک کے سامنے واقع ہے۔ اس سرحد پر شامی علاقہ سرکاری اہلکاروں اور باغیوں کے درمیان حالیہ کئی مہینوں سے جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔ باغیوں نے گذشتہ جولائی کو اس سرحدی علاقے پر قبضہ کیا تھا۔
ادھر برطانیہ میں شامی انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اسلامی جنگجووں نے طباقہ ڈیم پر قبضہ کر لیا ہے۔ حلب شہر کو زیادہ بجلی اسی ڈیم سے ملتی ہے۔
باغیوں نے جولائی میں حلب پر حملہ کیا تھا جس کے بعد یہ شہر سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے۔
دوسری طرف شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثنا نے صدر بشارالاسد کے حوالے سے بتایا کہ وہ اقتدار نہیں چھوڑیں گے چاہے ’ان پر جتنا بھی دباؤ ڈالا جائے‘۔
درین اثناء حزبِ مخالف کے رہنمان معظم الخطیب نے شامی حکومت پر ان کی امن مذاکرات کی پیشکش کو قبول نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شامی حکومت نے دنیا کو ’منفی پیغام‘ بھیجا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں جاری لڑائی میں ابھی تک 60 ہزار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…