صدارتی محل کے سامنے پیر کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب بعض مظاہرین نے صدارتی محل کے مرکزی گیٹ کے سامنے خاردار تاروں کو کاٹنے کی کوشش کی۔
بعض احتجاج کرنے والوں نے نعرے لگائے’عوام حکومت کو گرانا چاہتی ہے۔‘
بعض مطاہرین نے دیوراوں پر ’چھوڑ دو‘ کی لکھائی بھی کی۔
مظاہرین پتھراؤ کر رہے تھے جنہیں پولیس نے منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور آبی توپ خانے کا استعمال کیا۔
تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
حزبِ مخالف کے گروہ صدر محمد مرسی پر انقلاب کے مقاصد کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہیں جبکہ محمد مرسی کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ مظاہرین ملک کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر کو ہٹانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ حسنی مبارک نے مصر پر تیس سال تک حکمرانی کی تھی اور انہیں عوامی مظاہروں کے نتیجے میں گیار فروری دو ہزار گیارہ کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا۔
ادھر مصر کے حزبِ مخالف کی آذاد خیال جماعتیں صدر مرسی پر ملک میں ایک نئی قسسم کی مطلق العنانیت نافذ کرنے اور دو ہزار گیارہ کے انقلاب کے اقدار کو پامال کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
صدر محمد مرسی ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔ اس مہینے کے شروع میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز ریاستی اداروں کے تحفظ کرنے کے لیے سخت کارروائی کرے گی اور جو لوگ تشدت کر رہے ہیں انہیں ’سیاسی طور پر ذمہ دار‘ ٹہرایا جائے گا۔
یاد رہے کہ مصر میں موجودہ کشیدگی 24 جنوروی کو قاہرہ میں انقلاب کی دوسرے سال کے جشن کے موقع پر شروع ہوئی تھی۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…