افغانستان پر سہ فریقی سربراہی مذاکرات آج سے

افغانستان میں امن عمل پر افغانستان، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اہم سہ فریقی مذاکرات کا باقاعدہ آغاز پیر سے لندن میں ہو رہا ہے۔
ان مذاکرات میں افغانستان اور پاکستان کے صدور اور برطانوی وزیراعظم اپنے وفود کے ہمراہ شریک ہوں گے۔
گزشتہ موسمِ گرما کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ تینوں ممالک ان مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں جن کا مقصد خطے میں توازن کو فروغ دینا ہے۔
تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اس بات چیت میں پاکستان اور افغانستان کی افواج اور خفیہ اداروں کے سربراہان بھی شریک ہیں اور بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کی شرکت مفاہمتی عمل کے حساس ترین پہلوؤں سے نمٹنے میں مدد دے گی۔
ان سہ فریقی مذاکرات کے عمل کا آغاز برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کیا تھا جس کا مقصد غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں تینوں ممالک کے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار تھا۔
یاد رہے کہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء ہوگا جس کے بعد کی صورتحال پر مختلف سطح پر مذاکرات کا عمل جاری ہے۔
عالمی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولرج کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد کی صورتحال پر شدید تحفظات ہیں اور اب جبکہ انخلاء کی تاریخ قریب آ رہی ہے یہی چیز ان مذاکرات کا کلیدی نکتہ ہوگی۔
برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے باہمی تعاون کا فروغ ہے۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے پاکستان اور افغانستان کے صدور کے اعزاز میں شمالی لندن میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اتوار کی رات عشائیہ دیا۔
برطانوی وزیر اعظم کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سہ فریقی مذاکرات طالبان کو ایک واضح پیغام بھجواتے ہیں کہ اب ہر ایک لیے افغانستان میں پر امن سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے مذاکرات میں شرکت کا مناسب موقع ہے‘۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’جیسے کہ (برطانوی) وزیراعظم ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ ایک مستحکم افغانستان صرف افغانیوں کے ہی نہیں بلکہ ان کے ہمسایوں اور برطانیہ کے مفاد میں بھی ہے۔‘
افغان صدر حامد کرزئی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب جبکہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء ہونے والا ہے وہ ان غلطیوں کو نہیں دہرانا چاہتے جو ربع صدی قبل روس کے افغانستان سے انخلاء کے موقع پر وقوع پذیر ہوئیں اور جنہوں نے ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیل دیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان بداعتمادی کی فضا کا خاتمہ بھی ایک اہم معاملہ رہے گا۔
افغان حکومت نے اپنی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے بہت سے طالبان جنگجوؤں کی رہائی کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھتے ہیں۔
لیکن افغان حکام ملا برادر کی رہائی چاہتے ہیں جو کہ افغان طالبان کے سابق نمبر دو کمانڈر رہے ہیں جس سے افغان حکام کو امید ہے ان کی سطح کے ایک اعلیٰ طالبان اہلکار کی مدد سے طالبان کو کابل میں جاری مذاکرات میں شریک کرنے میں مدد ملے گی۔
اتوار کو افغان صدر کرزئی نے بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان عوام کو امن کے عمل کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے اور انہوں نے کہا کہ ’نہ ہی کمیونسٹ حکومت اور نہ مجاہدین افغانستان کو امن اور تحفظ فراہم کر سکے اگر ہم اپنے امن عمل کا خود انتظام نہیں کرتے جیسا کہ ہم نے ماضی میں کی تو پھر ہم کبھی بھی استحکام حاصل نہیں کر پائیں گے‘۔
واضح رہے کہ یہ تیسرا سہ فریقی اجلاس ہے۔ اس سے پہلے گذشتہ سال جولائی میں کابل میں اور ستمبر میں نیو یارک میں سہ فریقی اجلاس منعقد کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے افغانستان اور پاکستان کی فوجی قیادت نے افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کو ’پر امن اور تشدد سے پاک‘ رکھنے کے لیے بعض اہم نکات پر اتفاق کیا تھا۔
یہ اتفاق دونوں ملکوں کی فوجی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطح کے جامع اور سٹریٹیجک مذاکرات کے دوران حاصل کیا گیا تھا جو جنوری کے آخری ہفتے میں پاکستانی فوج کے صدر دفتر (جی ایچ کیو) میں ہوئے تھے۔
ان مذاکرات سے واقف ایک سینئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دونوں وفود کے درمیان امریکی انخلا کے پس منظر میں بعض بنیادی نوعیت کے معاملات پر بات چیت ہوئی تھی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں امریکی انخلا کے بعد پاک افغان سرحد پر دونوں ملکوں کے مشترکہ کنٹرول، دونوں ملکوں کے سرحدی محافظوں کے درمیان مضبوط روابط، افغان امن عمل میں پاکستانی کردار، دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تربیت کے معاہدے اور سرحدی علاقوں میں سماجی اور معاشی ترقی کے معاملات شامل تھے۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago