’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق مولوی عبداللہ شہید کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی ذاتی گاڑی پر ظہر کے وقت جامع مسجد مکی جارہے تھے، مرکزی عیدگاہ سے کچھ فاصلے پر مسلح شرپسند افراد نے ان پر فائرنگ کردی جہاں وہ موقع پر شہادت سے ہمکنار ہوئے۔
مولوی عبداللہ براھویی زاہدان میں ’’بدر روڈ‘‘ پر ایک مسجد کے پیش امام تھے، امامت کے علاوہ آپ شہر کے بعض دینی مدارس و مکاتب میں اسلامی کتب کی تدریس بھی کیا کرتے تھے۔
مرحوم نے شہادت سے قبل اپنے عزیزوں کو اطلاع دی ہے کہ انہیں کئی بار دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں اور انہیں علاقہ چھوڑنے کا کہا گیاہے۔
مولوی عبداللہ شہید کا جنازہ کل سنیچر کو نمازعصر کے بعد پڑھاگیا۔ نمازجنازہ میں عام شہریوں کے علاوہ علمائے کرام اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا عبدالحمید نے نماز جنازہ کی امامت کی۔
خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے جنازہ پڑھانے سے قبل حاضرین سے مختصر خطاب میں مذکورہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور صوبے کے سکیورٹی اور عدالتی حکام سے مطالبہ کیا جلدازجلد حملہ آوروں کے چہرے بے نقاب کردیے جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا دہشت گرد اور بزدل قاتلوں کو فورا گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی جائے۔
زاہدان-سنی آن لائن
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید