حکومتی ٹربیونل نے مولانا عبدالکلام آزاد کو چالیس برس قبل ملک کی آزادی کی تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم پر موت کی سزا ان کی عدم موجودگی میں سنائی۔
مولانا ابوالکلام پر یہ الزامات گزشتہ سال عائد کیے گئے تھے۔ اُن کے اہل خانہ کے مطابق انہوں نے گزشتہ برس اپریل میں سیکورٹی فورسز کے چھاپے سے قبل ملک چھوڑ دیا تھا۔
مولانا عبدالکلام کے ملک چھوڑنے کے بعد جماعت اسلامی نے اُن کی رکنیت بھی منسوخ کر دی تھی۔
وہ پہلے شخص ہیں جنہیں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے تین برس قبل بنائے جانے والے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے مجرم قرار دیا ہے۔
اس ٹربیونل نے اب تک ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت کے کئی رہنماؤں سمیت متعدد افراد کو جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار کرایا ہے جبکہ گرفتار ہونے والے تمام رہنما جنگی جرائم کے الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔
جماعتِ اسلامی نے 1970ء میں بنگہ دیش کی آزادی کی تحریک کی مخالفت کی تھی جس کے باعث ان پر پاکستانی فوج کی حمایت اور پاکستانی فوجیوں کے مبینہ جرائم میں شریک ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
دی نیوز ٹرائب
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار