اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر ناوی پلے نے کہا کہ ڈیتا اسپیشلسٹ نے انتہائی تفصیلی تجزیہ کیا ہے جس کے مطابق مارچ 2011 سے نومبر 2012 تک اختتام تک 59 ہزار 648 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پلے نے ایک بیان میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ “مارچ 2011 سے اب تک تنازع کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی اور ہم فرض کر سکتے ہیں کہ 2013 کے آغاز تک ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں”۔
انہوں نے کہا کہ “مرنے والوں کی تعداد ہماری توقعات سے کہیں زیادہ اور انتہائی حیران کن ہے”۔
پلے نے دسمبر 2011 میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد بتانے سے قاصر ہے جبکہ میڈیا شام کیلیے انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے دیے جانے والے اعداد وشمار پر انحصار کرتا ہے جس کی پیر کو جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق تنازع میں اب تک 46 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کا ذکر کرتے ہوئے پلے نے بدھ کو کہا کہ حالانکہ یہ تجزیہ انتہائی تفصیلی اور وسیع پیمانے پر کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود اس تعداد کو کسی بھی طریقے سے حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
” تنازع کی نوعیت اور تنازع کے آغاز کے بعد سے شام میں داخلے کی اجازت نہ ہونے کے باعث ہم ہر ایک موت کی وجوہات کی انفرادی بنیادوں پر تصدیق نہیں کر سکتے”۔
اقوام متحدہ کے ہای کمشنر نے مزید کہا کہ ایک دفعہ تنازع ختم ہو جائے تو پھر اس کے بعد لوگوں کی اموات کی وجوہات، اس کے حالات اور اس کے ساتھ ساتھ ان جرائم کے ذمےداران کے حوالے سے تفصیلی تحقیقات کی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے آفیشل کی جانب سے کیے گئے تجزیے کے مطابق مرنے والوں کی اصل تعداد 60 ہزار سے زائد ہو سکتی ہے کیونکہ اس حوالے سے غیرمصدقہ اطلاعات اور ہلاکتوں کو نکال دیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ہلاک ہونے والے متعدد افراد کا ذکر نہیں کیا گیا۔
اس حوالے سے رپورٹ میں ان شہروں کا بھی ذکر کیا گیا جن میں سب زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، حمص اس فہرست اول درجے پر جہاں 12 ہزار560 ہلاکتیں ہوئیں، دیگر شہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کچھ یوں ہے۔
دمشق کے دیہی علاقے میں 10 ہزار862، ادلیب میں 7 ہزار686، الیپو میں 6 ہزار188، دارا میں 6 ہزار34 جبکہ حما میں 5 ہزار80 افراد ہلاک ہوئے۔
ڈان نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…