ان کی عمر تراسی برس تھی اور وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔
جماعت اسلامی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پروفیسر غفور احمد کا انتقال ان کےگھر پر ہوا اور ان کی تدفین جمعرات کو ہو گی۔
بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہونے والے پروفیسر غفور احمد نے 1950 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوئے۔
وہ کئی برس تک کراچی میں جماعت کے امیر رہے اور انتقال کے وقت وہ جماعت کے نائب امیر کے عہدے پر فائز تھے۔
وہ انیس سو ستّر کے انتخابات میں پہلی مرتبہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن بنے اور 1972 سے1977 تک جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
انہوں نے پاکستان کے پہلے متفقہ آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو اور اپوزیشن جماعتوں کے قومی اتحاد کے مذاکرات کا حصہ بھی تھے۔
قومی اسمبلی کے علاوہ پروفیسر غفور احمد پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے بھی رکن رہے اور دو ہزار دو میں انہیں سینیٹر بنایا گیا۔
پاکستان کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
سیاست کے ساتھ ساتھ پروفیسر غفور احمد نے تدریس کے شعبے میں بھی خدمات سرانجام دیں اور اکاؤنٹس کی تعلیم دینے والے اہم اداروں سے منسلک رہے۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…