مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حادثہ لوئر اورکزئی میں ڈولی کے مقام پر پیش آیا ہے۔
انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں واقع کوئلے کی کان کی چھت اس وقت بیٹھ گئی جب اس میں گیس بھر جانے سے دھماکا ہوا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ چھت تلے دب کر موقع پر موجود سات کان کن ہلاک ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور ہنگو سے امدادی ٹیمیں طلب کی گئیں۔
اہلکار کے مطابق امدادی ٹیموں نے پیر کی صبح تک امدادی آپریشن مکمل کر لیا اور ساتوں ہلاک شدگان کی لاشیں نکال لی گئیں۔
ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق سوات کے علاقے شانگلہ سے بتایا گیا ہے اور ان کی لاشیں آبائی علاقے کو روانہ کر دی گئی ہیں۔
مقامی آبادی کے مطابق جس جگہ حادثہ پیش آیا وہاں تین سو کے قریب کوئلے کی کانیں ہیں اور یہاں پہلے بھی ایسے حادثات رونما ہوتے رہے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات کے ناقص ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں اور ملک میں پہلے بھی کانوں میں حادثے پیش آتے رہے ہیں۔
گزشتہ برس بلوچستان کے علاقے سپن کاریز میں میتھین گیس بھر جانے کے باعث کوئلے کی ایک کان میں دھماکہ ہواتھا جس کے نتیجے میں تینتالیس کان کن ہلاک ہوئے تھے۔
بی بی سی اردو
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار