جامع مسجدمکی زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحیدسے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: یہ کامیابی فلسطینی قوم کی مزاحمت و جہاد کا نتیجہ ہے۔ حال ہی میں ہم نے دیکھا ’حماس‘ اور فلسطینی مجاہدین کیسے قابض افواج کے سامنے ڈٹ گئے اور صہیونی عناصر خوف و ہراس کا شکار ہوگئے۔
انہوں نے مزیدکہا: خطے میں رونما ہونے والی عوامی تحریکیں اور انقلابات جنہیں ’عرب بہار‘ کے عنوان سے یادکیاجاتاہے نیز ایرانی عوامی انقلاب دراصل فلسطینی تحریک مزاحمت کے نتائج ہیں۔ اللہ تعالی کی کتاب کی روشنی میں ہمیں یقین ہے ان شاء اللہ فلسطین آزاد ہوگا۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے ممتازسنی عالم دین نے کہا: کاش کے فلسطینی عوام اس فتح کے شکرانے میں اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اور اجتماعی توبہ کرلیتے۔ چند برس قبل جب حماس کے رہنما ’خالدمشعل‘ سے میری ملاقات ہوئی تو بندہ نے ان سے گزارش کی کہ اگر فلسطینی قوم نماز کی پابندی کرتی تو اس سے بہت پہلے فتح وکامیابی سے ہمکنار ہوتی۔ فلسطینی مسلمانوں کو چاہیے مساجد سمیت ہر مقام پر نماز کی پابندی کریں اور ہمیشہ نماز ادا کریں؛ اس سے غاصب اسرائیلیوں کے دلوں میں خوف پھیلے گا اور دشمن مرعوب ہوگا۔
عالمی اتحادبرائے علمائے مسلمین کے ممبر نے مزیدکہا: قوموں کی تحقیر و تذلیل حالیہ انقلابوں اور آزادی پسند تحریکوں کی اصل وجہ ہے۔ جب عوام نے دیکھا ملکی تقدیر اور فیصلوں میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے، آمر اور کٹھ پتلی حکام ان کی تذلیل کرتے ہیں تو انہوں نے آزادی، انصاف اور برابری کیلیے تحریک چلائی ۔ آزادی اور انصاف سے کسی قوم کو نفرت نہیں ہے، یہ سب کی خواہش ہے آزاد ہو اور اپنا حق حاصل کرلے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: اگر مسلم ممالک میں عوام کو مکمل آزادی، انصاف اور استقلال حاصل ہوجائے تو پوری دنیا میں امن قائم ہوگا حتی کہ امریکا کی سکیورٹی بھی یقینی بن جائے گی۔ ہم سب دہشت گردی کے مخالف ہیں، لیکن اس کا مقابلہ انصاف کی فراہمی ، باہمی مکالمہ اور مظلوم کی آواز کو لبیک کہنے سے کیاجاسکتاہے۔ اگر امریکا، یورپ اور اقوام متحدہ دنیا میں موثر کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں آزادی اور مکالمے کی فضا پیدا کرنی چاہیے۔ جب مکالمہ اور انصاف فراہم ہو تو کوئی بھی فرد، گروہ یا تنظیم بندوق اٹھانے پر مجبور نہیں ہوگا، اسی لیے مظلوم کی بات پر کان دھرنا چاہیے۔
ممتازسنی عالم دین اور مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: امریکا اور اس کے ہمنوا ممالک جو فلسطین کی رکنیت کے خلاف ہیں، اگر صحیح سوچ کی حامل ہوں اور غور کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ فلسطین کی آزادی و استقلال مشرق وسطی میں پائیدار امن اور سلامتی کیلیے بہت بڑا اور موثر اقدام ہوگا۔ تمام دنیاوالوں کو پتہ ہونا چاہیے معقول اور منطقی راہ آزادی، انصاف کے نفاذ اور عوام کو ان کے امور میں مشارکت دینا ہے، امور مملکت میں دانشوروں اور خیرخواہ شخصیات کو شریک بنانا چاہیے۔
مولانا عبدالحمیدنے اقوام متحدہ میں فلسطین کی رکنیت بحیث مبصر رکن کو ’رحمتِ الہی‘ قرار دیتے ہوئے تمام قوموں کی آزادی کی نیک خواہش کا اظہار کیا۔
فرشتوں کی بشارت اور ابدی جنت؛ شریعت پراستقامت کا ثمرہ ہے
خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبے کا پہلا حصہ سورت الفصلت کی آیات: 30 تا32 کی تلاوت سے کرتے ہوئے صبرواستقامت کے موضوع پر چند نکات کی جانب اشارہ کیا۔
انہوں نے مزیدکہا: اللہ تعالی کو ایسا عمل پسند ہے جو لگاتار اور ہمیشہ ہو؛ اگر بندہ نیک عمل کرے لیکن ہمیشہ اس نیکی پر عمل نہ کرے تو اس کا ثواب کم ہوگا۔ اللہ تعالی دائمی اعمال کو زیادہ اجر دیتاہے۔ اچھا مسلمان اللہ کی راہ میں استقامت سے کام لیتاہے اور نیک اعمال میں پسپائی نہیں کرتا۔
شریعت پر پابندی سے عمل کرنے والے افراد کو ’مردانِ راہِ حق‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ کی راہ میں استقامت کرنے والے افراد کو اس ذاتِ پاک کی نصرت ومدد حاصل ہوگی۔ زندگی کے تمام مراحل میں نصرت اور نفس امارہ کے مقابلے میں کامیابی صرف ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو دوام کے ساتھ نیک اعمال بجا لاتے ہیں۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے: اگر تم سچے مؤمن ہو تو اللہ کی نصرت تمہیں نصیب ہوگی۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: شاید کچھ لوگ یہ شیطانی شبہہ پیش کریں کہ ’’جب اللہ نے نواسہ رسولﷺ کو مدد نہیں کی وہ ہماری کیسی مدد کرسکتاہے!‘‘ حالانکہ اللہ تعالی امام حسین رضی اللہ عنہ کی مدد ونصرت فرمائی اور اپنی راہ میں اسے شہادت سے نوازا۔ اللہ نے اس کی راہ اور افکار کو مقبولیت عطا فرمائی، لوگ اس کی اتباع میں فخر کرتے ہیں۔ لہذا جب اللہ کی راہ میں بندہ محنت کرے اور استقامت دکھائے تو کامیابی و فتح اس کا مقدرہے۔
آغاز میں تلاوت کی گئی آیت کی تشریح کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا: جو لوگ موت تک شریعت پر عمل کریں، تو سکرات موت کے موقع پر فرشتے بشارت دینے کیلیے حاضر ہوجاتے ہیں اور اسے جنت کی خوشخبری سناتے ہیں۔ اگر بندہ فانی و زوال پذیرمادی لذات کی خاطر اللہ کی بندگی چھوڑدے اور گناہ کے ارتکاب سے خود کو ملوث کرے تو اس کا یہ کام استقامت علی الشریعت کے خلاف ہوگا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…