مقامی کوارڈی نیشن کمیٹیوں کے مطابق شام میں نو بچوں، چھے خواتین سمیت 165 افراد مارے جا چکے ہیں۔ انہی کمیٹیوں کی تیارکردہ دستاویزات میں 266 بمباری کے واقعات ریکارڈ کئے جا چکے ہیں۔ گولا باری کا نشانہ بننے والے 120 مقامات ایسے ہیں کہ جن پر شامی فضائیہ نے بمباری کی۔ سب سے زیادہ شدید بمباری دمشق کے نواح میں کی گئی۔ شامی فوج اور جیش الحر کے درمیان 193 مقامات پر لڑائی مانیڑ کی گئی۔
‘سانا انقلاب’ نے اپنے مراسلے میں انکشاف کیا ہے کہ جیش الحر نے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی آڈے پر ‘مگ’ لڑاکا طیارے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ادھر دمشق کی التضامن کالونی اور جنوبی بستیوں جوبر، بساتین کفر سوسہ پر سرکاری توپخانے نے گولا باری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سرکاری فوجیوں نے الشاغور اور المھاجرین کالونیوں میں نہتے شہریوں کو حراست میں لینے کی خاطر پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ دمشق ہی کے مضافات میں لڑاکا جہازوں نے متعدد اہداف پر اپنی بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔
جیش الحر نے دمشق کے نواحی علاقے عقربا میں اپنی مزید کمک اور گولا بارود پہنچا دیا ہے۔ اس علاقے میں حکومت مخالف فوجیوں کے لاؤ لشکر کے اجتماع کا مقصد دمشق انٹرنیشنل ائرپورٹ پر حملے کی تیاری بتایا جاتا ہے۔
جیش الحر سے وابستہ ‘الاسلام بریگیڈ’ جنگجوؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ لڑائی کو اب حکمرانوں کے آخری گڑھ دمشق لیجائیں گے۔
ایک دوسری پیش رفت میں شامی قومی اتحاد نے قاہرہ میں اپنے اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ اپوزیشن نمائندوں پر مشتمل شام کی عبوری حکومت جلد تشکیل دیں گے۔ عین ممکن ہے یہ کام دو ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے۔ اتحاد کے میڈیا سینٹر کے مطابق یہ عبوری حکومت مختصر ہو گی جس میں آٹھ سے دس وزراء شامل ہوں گے۔
شامی قومی اتحاد کے ترجمان ولید البنی نے بتایا کہ اپوزیشن کا یہ نمائندہ فورم ملک کو درپیش بحران حل کرنے کی خاطر ہر تجویز پر غور کرنے کو تیار ہے۔ ان میں شام میں بین الاقوامی امن فوج کی تعنیاتی کی تجویز اس شرط پر ماننا بھی شامل ہے کہ یہ فوج بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنے میں معاونت کرے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام