Categories: مشرق وسطی

دوطرفہ حملوں کے دوبارہ آغاز پر حماس ۔ اسرائیل سیز فائر تعطل کا شکار

اسرائیل اور فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے درمیان مصری ثالثی میں فائر بندی کے اعلان کے علی الرغم پرتشدد واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق اسرائیل نے فائر بندی کی مصری تجویز ماننے کے بعد اس پر مزید غور وخوض کے لیے آج (بدھ) تک کا وقت مانگا ہے جس کے بعد سیز فائر کوششیں ایک مرتبہ پھر التواء کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت فائر بندی کو مستقل جنگ بندی کا درجہ نہیں دے رہی اور اگر تل ابیب نے مصری تجاویز سے اتفاق نہ کیا تو غزہ پر حملوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جائے گا۔ دوسری جانب حماس کے جنگجوؤں نے بھی اسرائیلی فوج کے زمینی آپریشن کی خبروں کے پیش نظر دفاعی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ جنگ بندی میں ناکامی کی صورت میں متبادل آپشنز پر غور کیا جار ہا ہے۔

جنگ بندی کی کوششوں کے جلو میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی تنصیبات پر 100 راکٹ داغے ہیں۔ مصر کو اس بات پر تشویش ہے کہ فائر بندی سمجھوتے میں تاخیر کی صورت میں اسرائیل دوبارہ جارحیت شروع کر سکتا ہے۔ بعض سفارتی حلقے فائر بندی کے عملی نفاذ میں تاخیر کو اسرائیل کی ایک ’چال‘ بھی قرار دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ منگل کی شام قاہرہ میں حماس اور اسرائیلی مندوبین کے بالواسطہ مذاکرات میں فریقین نے عارضی فائر بندی کے ایک سمجھوتے پر اتفاق کیا تھا۔ اس سمجھوتے کے تحت فریقین نے اپنی اپنی شرائط پیش کی تھیں اور دونوں نے ان شرائط پر عمل درآمد کا بھی عندیہ دیا تھا۔ حماس کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ روکنے کے ساتھ غزہ کی پٹی کا معاشی محاصرہ مکمل ختم کرنے کی ایک اضافی شرط عائد کی گئی تھی۔ نیز یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی گذرگاہ رفح سے فلسطینیوں کی بیرون ملک آمد و رفت قاہرہ اور حماس کے درمیان معاملہ ہو گا۔ اسرائیل کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہو گا۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق فریقین میں جنگ بندی کرانے کے لیے مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے ذاتی طور پر تگ دو کی اور وہی فریقین میں اس معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت بھی فراہم کریں گے۔ البتہ فائر بندی معاہدہ کرانے کے لیے علاقائی اور عالمی ثالثوں کی بھی حمایت حاصل ہو گی۔ اسرائیلی حکومت کے ایک ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ تل ابیب، قاہرہ کی جانب سے کسی بھی سمجھوتے کا احترام کرے گا۔ حماس کی جانب سے فائر بندی کے معاہدے کے لیے درج ذیل شرائط پیش کی گئی ہیں:

اسرائیل غزہ پر زمینی، فضائی اور بحری حملے مکمل بند کرے گا۔ فلسطینیوں کی ٹارگٹ کلنگ بند اور غزہ کی پٹی میں دراندازی روک دے گا۔ غزہ کی پٹی اور فلسطین کے دیگر شہروں میں آمد ورفت کو سنہ 2005ء والی پوزیشن پر بحال کیا جائے گا۔ غزہ کی تمام سرحدی رہداریاں کھول دی جائیں تاکہ جنگ سے تباہ حال شہر کی تعمیر نو کے لیے تعمیراتی میٹریل اور ایندھن کی منتقلی کو آسان بنایا جا سکے۔

راکٹ حملوں میں کئی یہودی زخمی
درایں اثناء صہیونی جارحیت کے جواب میں رات گئے فلسطینی مزاحمت کاروں نے بھی غزہ سے جوابی راکٹ حملے کیے جن ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب غزہ سے داغا گیا ایک راکٹ ریشون ریستیون میں ایک سات منزلہ عمارت پر لگا جس کے نتیجے میں دو یہودی آباد زخمی ہو گئے۔

منگل کے روز اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ غزہ سے داغے گئے ایک راکٹ کے حملے میں اٹھارہ سالہ ایک فوجی اہلکار یوسف بارٹوک شدید زخمی ہوا۔ قبل ازیں اشکول شہر میں راکٹ گرنے سے ایک یہودی آباد کار ہلاک اور سترہ زخمی ہو گئے تھے۔ ایک دوسرے راکٹ حملے میں اشکول ہی میں گیارہ یہودی فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے پانچ کو درمیانے اور خطرناک نوعیت کے زخم آئے ہیں۔

اسرائیلی ٹی وی 10 کے مطابق فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں میں مجموعی طور پر 120 آبادکار زخمی ہوئے ہیں۔ آخری راکٹ ریشون ریتسیون میں منگل کی شام کو گرا تھا جس کے نتیجے میں دو عمارتیں اور 15 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں اور راکٹ کے شیل لگنے سے سات یہودی آباد زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق منگل کو اسرائیلی آبادیوں پر فلسطینی مزاحمت کاروں کے داغے گئے 150 راکٹ گر کر پھٹے جبکہ میزائل شکن نظام ’’آئرن ڈوم‘‘ کی مدد سے 50 راکٹوں کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی فضاء میں تباہ کر دیا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ، غزہ ۔ حنان المصری، بیت المقدس ۔ زیاد حلبی، ایجنسیاں

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago