Categories: مشرق وسطی

فلسطینیوں کا غزہ پر اسرائیل کا اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ

فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کا ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے تل ابیب کی جانب طویل فاصلے تک مارکرنے والا ایک میزائل فائر کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے فوری طور پر غزہ کی پٹی میں اپنا اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کی تصدیق نہیں کی۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کی جانب سے فائر کیا گیا میزائل کو اپنے دفاعی نظام کے ذریعے ناکارہ بنا دیا اور اس کا ملبہ ایک کار پر گرا ہے جس کے نتیجے میں اس کار کو آگ لگ گئی۔تاہم اس کا ڈرائیور زخمی نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ شہر اور دوسرے علاقوں پر جارحانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اتوار کو غزہ شہر کے ایک رہائشی علاقے میں ایک دو منزلہ عمارت پر میزائل فائر کیا ہے جس کے نتیجے میں عمارت مکمل تباہ ہو گئی اور گیارہ فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

غزہ پر اسرائیلی فوج کی گذشتہ پانچ روز سے جاری جارحیت میں کسی ایک واقعہ میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔فلسطینی ذرائع کے مطابق غزہ کے علاقے ناصر میں اسرائیلی فوج نے الدلو خاندان کے مکان کو میزائل سے نشانہ بنایا جس سے وہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

غزہ کے محکمہ صحت کے ایک اہلکار اشرف الخضریٰ نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں ایک اسی سالہ خاتون سمیت پانچ خواتین ،چار کم سن بچے اور دو مرد شامل ہیں۔ امدادی کارکنان نے ملبے سے ایک پانچ سالہ بچے سمیت سمیت تمام لاشیں نکال کر غزہ کے الشفا اسپتال میں منتقل کر دی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملے میں ایک مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد کے راکٹ حملوں کے ایک مبینہ ماسٹر مائنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن صہیونی فوج کے دیگرے جھوٹے دعووں کی طرح اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں جبکہ اشرف الخضریٰ کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے دونوں فلسطینی عام شہری تھے۔

اسرائیلی فوج کےاس میزائل حملے میں متعدد قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور زخمی ہونے والے بچوں اور خواتین کو ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج غزہ پر زمینی چڑھائی بھی کر رہی ہے اور اس کے توپخانے اور پیادہ دستوں نے علاقے کا مکمل گھیراؤ کر لیا ہے اور وہ بڑے زمینی حملے کے لیے تیار ہیں۔

گذشتہ بدھ سے اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی پر جاری فضائی حملوں میں اب تک چھیاسٹھ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے جوابی راکٹ حملوں میں تین یہودی مارے گئے ہیں۔

اسرائیل کے جنگ پسند قائدین اور صہیونی فوج یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ حملوں میں شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنا رہے ہیں اور اس وجہ سے ان کا کم سے کم جانی نقصان ہو رہا ہے بلکہ وہ الٹا فلسطینیوں کو شہری ہلاکتوں کا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ فلسطنی مزاحمت کار مساجد اور شہری آبادیوں میں چھپے ہوئے ہیں اور ان مقامات کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ صہیونی فوج فلسطینی مزاحمت کاروں کو نشاندہی کے بعد نشانہ بنا رہی ہے مگر غزہ میں موجود صحافیوں اور غیر سرکاری اداروں سے وابستہ کارکنان کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کے جنگی طیارے بلاتخصیص شہری آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں اور عام شہریوں ہی کا جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کو اسرائیلی طیاروں نے حماس کے وابستگان کے پندرہ، بیس مکانوں پر بمباری کی ہے اور ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہی نشانہ بنے ہیں۔ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزاحمتی کاروں کی کمر توڑنے کے دعوے کر رہی ہے جبکہ فلسطینی جنگجوؤں نے اسرائیل کی جانب راکٹ حملوں کا بدستور سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

غزہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

6 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago