ذرائع ابلاغ کے مطابق سرکاری فوج نے گزشتہ روز دمشق کے جنوب میں مہاجرین کے دو کیمپوں پر ٹینکوں سے بمباری کی ہے، اس علاقے میں فوج اور باغیوں میں شدید لڑائی جاری ہے، صوبہ حلب کے اہم قصبے مرت النعمان پر بھی سرکاری فوج نے شدید بمباری کی ہے، ترک سرحد کے قریب شامی علاقے راس العین میں باغیوں نے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کردیا جس میں 18 سرکاری فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ باغیوں نے چیک پوسٹ پر قبضہ بھی کرلیا، پرتشدد واقعات میں18 فوجیوں سمیت مزید 50 افراد مارے گئے، شام چھوڑ کر جانے والے لوگوں کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کرگئی۔
اقوام متحدہ کے امور مہاجرین کی نمائندہ میلیسا فلیمنگ نے کہا ہے کہ ملک کے اندر بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جانا دشوار ہے کیونکہ وہ مسلسل متحرک رہتے ہیں اور خود کو چھپائے رکھتے ہیں۔ ادھر روسی وزیر اعظم دمتری میدیدیوف نے اپوزیشن اتحاد کی حمایت کرنے والے ممالک کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانس نے اپوزیشن اتحاد کو تسلیم کرلیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید