ایام حج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ تعالی نے ماہ ذوالحجہ کو خاص فضائل سے نوازا ہے؛ اسی مہینے میں حج کی عظیم عبادت کی ادائیگی ممکن ہے، دوسرے مہینوں میں فریضہ حج ادا نہیں کیاجاسکتا۔ اس ماہ میں بعض مخصوص عبادات کا وجود فضیلت کی بات ہے۔ اللہ کی خاص رحمتیں اسی ماہ میں بندوں پر نازل ہوتی ہیں۔
استاذالحدیث جامعہ دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: خوش قمست ہیں وہ لوگ جنہیں حج کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ لیکن باقی مسلمان بھی اللہ کی مخصوص رحمتوں سے محروم نہیں رہیں گے۔ احادیث کے مطابق یہ ایام اور راتیں خاص ہیں؛ عرفہ کو روزہ رکھنا پوری زندگی کو روزہ رکھنے کے برابر ہے۔ ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی راتوں میں عبادت شب قدر کی عبادت کی مساوی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: دنیا کے بعض حکمران بعض اوقات سال میں کسی خاص دن کی مناسبت سے بعض قیدیوں کو رہا کردیتے ہیں یا ان کی مدت قید میں کمی کا اعلان کرتے ہیں؛ لیکن اللہ تعالی ہمیشہ توبہ و رجوع کا دروازہ کھلا رکھتاہے۔ سال میں کئی مواقع پر عام معافی کا اعلان ہوجاتاہے بشرطیکہ بندہ سستی کا مظاہرہ نہ کرے اور اللہ کی جانب رجوع کرلے۔ یہ ایام بھی توبہ و رجوع الی اللہ کے ہیں۔
نائب خطیب مولانا احمد نے زور دیتے ہوئے کہا: جس طرح ایام ذی الحجہ میں عبادات کا ثواب کئی گنا ہوجاتاہے اسی طرح گناہ کا ارتکاب کرنا ان ایام بہت برا ہے۔ گناہ ومعصیت اور سستی و کاہلی کے بجائے چستی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ اللہ کا قرب حاصل کیاجاسکے۔
اپنے بیان کے آخر میں قربانی کے واجب ہونے اور اس کے متعلقہ احکام کی وضاحت کے بعد انہوں نے کہا: اس سال کی عید جمعے کے دن واقع ہوتی ہے؛ یاد رکھیں عید اور جمعہ دو الگ الگ عبادتیں ہیں۔ دونوں کی ادائیگی ضروری ہے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ جب عید کی نماز پڑھ لی تو نمازِ جمعہ کی ضرورت نہیں! ہرگز ایسا نہیں ہے؛ یہ ایک غلط بات ہے جو مشہور ہوئی ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام