مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیاگیا جب حملہ آور اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام ہوا تھا اور “بسیج” ملیشیا کے اہلکار مبینہ بمبار کے تعاقب کررہے تھے۔
صوبائی نائب گورنر “رجب علی شیخ زادہ” کے مطابق دھماکے سے ایک پولیس اہلکار سمیت چار رہگیر زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلیے فورا اسپتال منتقل کیاگیا۔
واقعے کی ذمہ داری “حرکت انصار” نامی گروپ نے اپنی ویب سائیٹ پر بیان شائع کرتے ہوئے قبول کیاہے۔ بیان کے مطابق “کاربم دھماکے” میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن کا تعلق سکیورٹی اداروں سے تھا۔
علمائے اہل سنت زاہدان سمیت متعدد شیعہ و سنی شخصیات اور تنظیموں نے مذکورہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مسلم امہ کے اتحاد پر زور دیاہے۔
سنی آن لائن+خبررساں ادارے
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید