مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیاگیا جب حملہ آور اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام ہوا تھا اور “بسیج” ملیشیا کے اہلکار مبینہ بمبار کے تعاقب کررہے تھے۔
صوبائی نائب گورنر “رجب علی شیخ زادہ” کے مطابق دھماکے سے ایک پولیس اہلکار سمیت چار رہگیر زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلیے فورا اسپتال منتقل کیاگیا۔
واقعے کی ذمہ داری “حرکت انصار” نامی گروپ نے اپنی ویب سائیٹ پر بیان شائع کرتے ہوئے قبول کیاہے۔ بیان کے مطابق “کاربم دھماکے” میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن کا تعلق سکیورٹی اداروں سے تھا۔
علمائے اہل سنت زاہدان سمیت متعدد شیعہ و سنی شخصیات اور تنظیموں نے مذکورہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مسلم امہ کے اتحاد پر زور دیاہے۔
سنی آن لائن+خبررساں ادارے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…