مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیاگیا جب حملہ آور اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام ہوا تھا اور “بسیج” ملیشیا کے اہلکار مبینہ بمبار کے تعاقب کررہے تھے۔
صوبائی نائب گورنر “رجب علی شیخ زادہ” کے مطابق دھماکے سے ایک پولیس اہلکار سمیت چار رہگیر زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلیے فورا اسپتال منتقل کیاگیا۔
واقعے کی ذمہ داری “حرکت انصار” نامی گروپ نے اپنی ویب سائیٹ پر بیان شائع کرتے ہوئے قبول کیاہے۔ بیان کے مطابق “کاربم دھماکے” میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن کا تعلق سکیورٹی اداروں سے تھا۔
علمائے اہل سنت زاہدان سمیت متعدد شیعہ و سنی شخصیات اور تنظیموں نے مذکورہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مسلم امہ کے اتحاد پر زور دیاہے۔
سنی آن لائن+خبررساں ادارے
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام