مصری صدر کے سرکاری فیس بک صفحے پر شائع ہونے والے پیغام کے مطابق ان تمام اعمال کے لیے معافی دی گئی ہے جو انقلاب کی مدد کے نظریے کے تحت سرانجام دیے گئے تھے۔
اس عام معافی کے نتیجے میں مصری جیلوں سے ہزاروں افراد کی رہائی متوقع ہے۔
مصر کے سابق صدر حسنی مبارک نے گزشتہ برس فروری میں اٹھارہ دن کی حکومت مخالف تحریک کے بعد اقتدار چھوڑ دیا تھا۔
اس تحریک کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے اور عدالت نے رواں برس جون میں حسنی مبارک ان ہلاکتوں کو روکنے میں ناکامی پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
عام معافی کا اطلاق تحریک کے آغاز کے دن یعنی پچیس جنوری دو ہزار گیارہ سے ہوگا اور اس کے تحت رواں برس جون تک حراست میں لیے جانے والے افراد آئیں گے۔
صدارتی حکم کے تحت نہ صرف ان افراد کو معافی دی گئی ہے جو سزا کاٹ رہے ہیں بلکہ وہ افراد بھی معافی کے حقدار ہیں جو ابھی مقدمہ چلائے جانے کے منتظر ہیں۔
تاہم قتل کے ملزمان پر اس معافی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق صدارتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل اور فوجی استغاثہ ایک ماہ کے اندر ان افراد کی فہرست سامنے لائیں جنہیں معاف کر دیا گیا ہے۔
محمد مرسی رواں برس جون میں مصر کے پہلے جمہوری طور پر منعقدہ صدارتی انتخاب کے نتیجے میں ملک کے سربراہ بنے تھے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…