صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں میں 90 فیصد کی گنتی ہو چکی ہے جس کے مطابق مسٹر شاویز نے 54 فیصد جبکہ ان کے مدمقابل نے 44.97 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ شاویز گزشتہ چودہ برس سے وینزویلا کے صدر چلے آ رہے ہیں۔
کامیابی کے اعلان کے فورا بعد ہوگو شاویز کے حامی اور ووٹر دارلحکومت کراکس کی سڑکوں پر کامیابی کا جشن منانے نکل آئے۔ تیل کی دولت سے مالا مال وینزویلا میں ہوگو شاویز کی یہ مسلسل چوتھی کامیابی ہے۔
انہوں نے الیکشن مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کامیابی کے بعد ملک میں اشتراکی انقلاب کے ثمرات کو مزید بڑھاوا دیں گے جبکہ ان کے سیاسی حریف کابریلس نے انتخانی مہم کے دوران ملک میں اقتصادی ترقی کے وعدے سے عوام سے ووٹ مانگے تھے۔ بہ قول کابریلس پٹرولیم سیکٹر میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث پیداوار میں کمی ہو رہی ہے۔
دونوں امیدواروں نے اپنی اپنی انتخابی مہم میں ووٹروں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے انٹرنیٹ پر سماجی رابطوں کے فورمز کا بھرپور استعمال کیا۔ ملک بھر میں قائم دس ہزار پولنگ اسٹیشنز پر قانون نافذ کرنے والے ڈیڑھ لاکھ افراد نے سیکیورٹی کے فرائض ادا کئے۔
ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…