ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر مرسی نے ہفتے کے روز قاہرہ اسٹیڈیم میں جنگ چھے اکتوبر کی یاد میں منعقدہ ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب میں کیا۔ خیال رہے کہ مصر میں پچھلے تین عشروں کے بعد پہلی مرتبہ اکتوبر 1973ء کی اسرائیل کے خلاف لڑی گئی جنگ کی سرکاری سطح پر تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ صدر محمد مرسی نے عوامی انقلاب اور جنگ اکتوبر کے شہداء کی ارواح کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کا خون ہماری گرنوں پر قرض ہے۔ ہم اس قرض کو اتاریں گے۔ انقلابیوں کے قاتلوں کو جب تک قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ پچیس جنوری دو ہزار گیارہ کے انقلاب نے عوام میں ایک نیا جذبہ اور روح پھونکی ہے۔ ہم اس جذبے کو ٹھنڈا نہیں پڑنے دیں گے۔ پوری قوم اور مسلح افواج جھوٹ اور ظلم کے مقابلے کے لیے ایک ہیں۔ انہوں نے تکرار کے ساتھ پچیس جنوری 2011ء کے انقلابی شہداء کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان کا خون ریاست کی گردن پر قرض ہے۔ انہوں نے انقلاب کے دوران کوتاہی برتنے اور شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے والوں سے تحقیقات کا عہد کیا اور کہا کہ قاتلوں کو چھپنے یا بھاگنے نہیں دیا جائے گا۔
صدر مرسی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ انقلاب کے ہنگاموں کے بعد بھی مصر ایک مشکل دور سے گذر رہا ہے۔ یہاں ہر چیز اب بدل چکی ہے۔ ہم عوام سے پردے میں نہیں رہ سکتے اور نہ ہی ایسا کریں گے۔ جہاں عوام ہوں گے ہمیں وہ اپنے درمیان پائیں گے۔ انقلاب کو ناکام بنانے والے خود ہرمیدان میں ذلت آمیز ناکامیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ آج فوج اورقوم ہم آواز ہو چکی ہیں اور ہم تیزی سے اپنے مشکل سفر کو طے کر رہے ہیں۔ ظلم، جھوٹ اور فریب کا راج گذر چکا، اب عدل اور سچائی کی فرمانروائی ہو گی۔
مصری صدر نے سنہ 1973ء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ کو تاریخی معرکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں مصری قوم کے وقار اور عزت واحترام بحال ہوا تھا۔ انہوں نے جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ قاہرہ اسٹیڈیم میں منعقدہ اس تقریب میں سابق صدر محمد انور سادات کے قتل میں ملوث قرار دیے گئے جماعت اسلامی کے رکن عبود الزمر کے چچا زاد طارق الزمر نے بھی شرکت کی۔ خیال رہے کہ 06 اکتوبر ہی کی تاریخ کو صدر انور سادات کو قاہرہ میں ایک فوجی پریڈ کے موقع پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
قاہرہ میں منعقدہ تقریب میں جامعہ الازھر کے سربراہ شیخ احمد الطیب، پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر محمد سعد الکتاتنی، مجلس شوریٰ کے چئیرمین احمد فہمی اور صدر کے صاحبزادے عبداللہ نے شرکت کی جبکہ فیلڈ مارشل جنرل محمد حسین طنطاوی اور سابق آرمی چیف جنرل سامی عنان اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ جلسے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے اور سیکیورٹی اداروں کے اصرار پر صدر محمد مرسی خلاف معمول بُلیٹ پروف گاڑی میں تقریب میں پہنچے۔ انہیں دیکھ کر اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں افراد نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اور مرسی زندہ باد کے نعرے لگائے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…