Categories: مشرق وسطی

سعودی عرب: مذہبی پولیس کے لیے نئے فیلڈ ورک رہ نما اصول

ریاض (العربیہ ڈاٹ نیٹ) سعودی عرب کی مشاورتی اسمبلی (کونسل) نے مذہبی پولیس (امر بالعمروف اور نہی عن المنکر کمیشن) پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے لیے رہ نما اصول وضع کرے اور ان کیسوں کی بھی وضاحت کرے جن میں شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے مداخلت کی جا سکتی ہے۔

سعودی مذہبی پولیس کے اہلکار معاشرے میں لباس کے ضابطے کے نفاذ، مخلوط اجتماعات اور غلط کاریوں کی روک تھام کے لیے شہروں میں عوامی مقامات پر گشت کرتے رہتے ہیں۔ وہ یوں تو شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں لیکن خود انھیں اختیارات کے ناجائز استعمال اور بعض مواقع پر شہریوں کی بنیادی آزادیاں سلب کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔

سعودی عرب کی مشاورتی کونسل کے ایک رکن خدیر القریشی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کمیشن کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کونسل کی جانب سے سفارشات میجر جنرل عبداللہ سلول نے مرتب کی ہیں اور ان کا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر کمیشن کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مدد دینا ہے۔چنانچہ مذہبی پولیس کے ملازمین کے لیے نئے رہ نما اصول وضع کیے گئے ہیں تاکہ وہ ان کی روشنی میں اپنی خدمات انجام دے سکیں اور کسی قسم کے ابہام سے بھی بچ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان رہ نما اصولوں پر عمل درآمد کوئی مشکل امر نہیں ہوگا کیونکہ اسلام بالکل واضح ہے اور اس نے جن کاموں کو کرنے سے منع کیا ہے ،وہ بہت تھوڑے ہیں۔اس لیے ان کی نشان دہی کرنا بہت آسان ہے۔

مذہبی پولیس کے سربراہ شیخ عبداللطیف عبدالعزیز آل شیخ نے سعودی روزنامے ‘الحیات’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”نئے نظام کے تحت کمیشن کے اہلکاروں کے فیلڈ ورک کے لیے ایک میکانزم وضع کیا جائے گا اور وہ اپنے بعض کام ریاست کے دوسرے اداروں کو سونپ سکیں گے”۔

انھوں نے کہا کہ ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ملازمین اب متعلقہ گورنر کی منظوری کے بغیر تلاشی کی کارروائیاں نہیں کرسکیں گے”۔اس کے علاوہ وہ شاپنگ پلازوں کے باہر بھی ہر آنے جانے والے پر نظر رکھنے کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے۔

یاد رہے کہ سعودی حکومت نے جنوری میں اعتدال پسند شیخ عبداللطیف عبدالعزیز آل شیخ کو محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (مذہبی پولیس) کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ انھوں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے دوہفتے کے بعد کمیشن میں رضاکاروں کے کام کرنے پر پابندی عاید کر دی تھی۔

اپریل میں انھوں نے مذہبی پولیس کو لوگوں کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے سے منع کردیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ جو اہلکار بھی اس ضابطے کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے،ان کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔

شیخ عبداللطیف آل شیخ نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ ”کمیشن کے مشکوک لوگوں کا تعاقب کرنے کے حوالے سے نئے طریق کار اور قواعد وضوابط کا بہت جلد اجراء کر دیا جائے گا”۔ انھوں نے اپریل میں ایک حکم نامے کے ذریعے کمیشن کے اہلکاروں کو مجرموں اور مشتبہ لوگوں کا پیچھا کرنے سے روک دیا تھا۔

modiryat urdu

Recent Posts

امانت داری اہم اخلاقی قدر ہے؛ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے

امانت داری اہم اخلاقی قدر ہے؛ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا لحاظ رکھنا…

9 hours ago

مصنوعی ذہانت اور معاصر فقہ

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…

3 days ago

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

1 week ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

1 week ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

2 weeks ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

2 weeks ago