العربیہ کی رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں ایک اعلیٰ فوجی افسر بھی شامل ہے۔دمشق انقلابی کونسل اور نواسۂ رسول بریگیڈ دونوں نے دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ دھماکے میں شبیحہ ملیشیا کے جنگجو اور متعدد فوجی افسر مارے گئے ہیں۔
نئے منظرعام پر آنے والے گروپ نواسۂ رسول بریگیڈ نے العربیہ کو بتایا کہ ”ہمارے ایک آدمی نے انٹیلی جنس شاخ کے ایندھن کے ٹینک کے ساتھ دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا اور حملے میں ایک میجر جنرل اور دو کرنل بھی مارے گئے ہیں۔دمشق کے مکینوں نے بتایا ہے کہ دمشق کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع اس دفتر میں دھماکے کے بعد دھواں بلند ہوتے دیکھا گیا ہے۔
دمشق کے مکینوں نے شاہراۂ بغداد پر سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاع دی ہے اور ایک جنگجو گروپ انصار الاسلام کا کہنا ہے کہ علاقے میں ایک اسکول کو بھی دوبموں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔وہاں اس وقت شبیحہ ملیشیا اور سرکاری فوجیوں کا ایک اجلاس ہورہا تھا۔ تاہم اس دھماکے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
درایں اثناء شامی فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران فائر کیے گئے مارٹر گولے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے گولان کی پہاڑیوں میں گرے ہیں۔تاہم ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ گولے شامی دیہات کی جانب چلائے گئے تھے لیکن وہ گولان کی پہاڑیوں پر آکر گرے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے سرحدی علاقے میں جنگ بندی کی ذمے دار اقوام متحدہ کی فورسز کے ہاں شکایت درج کرادی ہے اور کہا ہے کہ شام کی جانب سے اسرائیلی علاقے میں مارٹر گولوں کے فائر کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید