توہین آمیز فلم کے بعد فرانسیسی جریدے کا گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر اصرار

اسلام اور مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی توہین مغربی ذرائع ابلاغ کا من پسند مشغلہ بنتا جا رہا ہے اور گستاخانہ مواد شائع کرنے کے لیے مغربی ذرائع ابلاغ کے اشاعتی اور نشریاتی اداروں میں ایک مقابلے کی کیفیت ہے۔
امریکا میں نائن الیون کی برسی کے موقع پر توہین آمیز فلم کے خلاف عالم اسلام میں احتجاج کی حدت کم نہیں ہوئی ہے کہ انہی دنوں فرانس کے ایک ہفت روزہ جریدے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیریس سے فرانسیسی زبان میں چھپنے والے میگزین ‘چارلی ایبڈو’ کے ایڈیٹر انچیف چارب نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے بدھ کے روز کے پرچے میں ایک صفحہ خاکوں کے لیے مختص کیا ہے۔ ان خاکوں میں مسلمانوں کے پیغمبر کی زندگی پر کارٹون شامل ہیں۔

فرانسیسی ٹی وی “آئے ٹیلی’ سے بات کرتے ہوئے جریدے کے ایڈیٹر نے کہا کہ ‘‘جو لوگ ہمارے میگزین سے نفرت کرتے ہیں، اسے پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور ہمارے ساتھ لڑائی پر اتر آتے ہیں، یہ خاکے ان کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ہم لڑائی کرنے والوں کے ساتھ اسی طرح لڑ سکتےہیں’’۔

خیال رہے کہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے مذموم عزم کا اظہار کرنے والا جریدہ اسی طرح کی جسارت پچھلے سال بھی کر چکا ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر گذشتہ برس پیرس میں اس کے دفتر پر نامعلوم افراد نے پٹرول بمبوں سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دفتر کا ایک حصہ نذر آتش ہو گیا تھا۔ میگزین نے اس سال پھر وہی جسارت کی ہے اور آزادی صحافت کی آڑ میں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا ہے۔

جریدے کےمدیرکا کہنا ہے کہ (گستاخانہ) کارٹون میگزین کے اندرونی صفحات میں شائع کیے جائیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس پر کسی قسم کے ردعمل کی توقع نہیں رکھتے تو چارب نے کہا کہ ہم صحافت اور آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کارٹونوں کو اشتعال انگیز نہیں قرار دیا جا سکتا۔ چارب نے استفسار کیا کہ کیا آزادی صحافت بھی اشتعال انگیزی ہے؟۔

درایں اثناء فرانسیسی وزیر اعظم جان مارک آئرویلٹ نے میگزین کے چیف ایڈیٹر کے بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی کی آڑ میں کسی کو حدود سے تجاوز کی اجازت نہیں دیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے متعلق سوال پر فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا کہ تمام ادارے اور شہری احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

ادھر پیرس میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں لیکن وہ حدود سے تجاوز کو پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے تمام اشاعتی اور نشریاتی اداروں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اورکسی نئی اشتعال انگیزک ارروائی سے گریز کریں۔ وزیر اعظم آئرویلٹ کا کہنا ہے کہ فرانس ایک سیکولر ملک ہے جہاں تمام مذاہب کو یکساں احترام حاصل ہے۔ میثاق جمہوریت کا اصل اصول یہ ہے کہ تمام ادیان کا احترام بجا لایا جائے۔

ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فائیبوس، جو ان دنوں قاہرہ کے دورے پر ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ کسی اخبار یا جریدے کو کارٹون شائع کر کے نئی اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے آزادی اظہار رائے کا ‘تڑکا’ لگاتے ہوئے اپنی ہی بات کی نفی کر دی کہ ان کے ملک میں کچھ بھی شائع کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہر ایک کو اپنی رائے کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago