ہوٹل پر ہونے والے اس خوفناک حملے کے نتیجے میں افریقی یونین کے 3فوجیوں سمیت8 افراد ہلاک ہوگئے۔ دھماکے کے بعد زمین پر ایک بڑا گڑھا پڑاگیا جس میں مبینہ خودکش حملہ آورکا تن سے سر جدا پڑاتھا۔
دریں اثناء صومالیہ میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لئے بر سرپیکار مسلح تنظیم الشباب نے اس حملے سمیت 2دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
دونوں دھماکوں کے فوراً بعد صومالی صدر نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایسی کارروائیاں ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتیں جبکہ ہماری سب سے پہلی اور اولین ترجیح سیکورٹی کے مسئلے کو حل کرناہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دارالحکومت موغادیشو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب انتہائی محفوظ خیال کئے جانے والے علاقے میں بدھ کو صومالیہ کے صدرشیخ حسن محمد اور دورے پر آئے ہوئے کینیا کے وزیرخارجہ سام اونگیری مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کررہے تھے کہ اس دوران ایک خودکش دھماکا ہوا تاہم صومالی صدر اور کینیا کے وزیرخارجہ اس میں محفوظ رہے لیکن اس کے نتیجے میں افریقی یونین کے 3فوجی اور5 دیگر افراد ہلاک ہوگئے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان