دارالحکومت بغداد کے شمالی حصے میں سیکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر بم حملے اور فائرنگ سے گیارہ سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے جب کہ سترہ زخمی ہیں۔
اسی بارے میں
بغداد کے شمال میں فوجی چھاؤنی پر مسلح باغیوں نے حملہ کیا، جس میں انہوں نے کئی گھریلو ساخت کے بم استعمال کیے۔
اطلاعات کے مطابق ایک اور حملے میں عراق کے شمالی شہر کرکوک میں ہونے والے ایک بم حملے میں پولیس کے زیر تربیت سات اہلکار ہلاک ہو گئے۔
پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تیل کے سرکاری ادارے میں بھرتیوں کے لیے درخواستیں وصول کی جا رہی تھیں کہ اس دوران بم حملے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
عراق میں حکام کے مطابق حالیہ پرتشدد واقعات میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والےعسکریت پسند ملوث ہیں۔
عراق میں سال دو ہزار چھ اور سات کے مقابلے میں اگرچہ پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے لیکن عراق سے دسمبر سال دو ہزار گیارہ میں امریکی فوج کے انخلاء کے بعد سے فرقہ وارانہ سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
بی بی سی اردو
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار