صدر مرسی نے بدھ کو قاہرہ میں عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شام سمیت عرب ممالک میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ مصر گذشتہ سال سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے لیے برپا شدہ اپنا انقلاب برآمد نہیں کرے گا۔
صدر مرسی نے شام کی صورت حال اور وہاں رونما ہونے والے انقلاب کے حوالے سے اپنی تقریر میں کہا کہ ”شام میں اب اصلاحات کا وقت نہیں رہا ہے، وہاں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے، اسے رونما ہونا ہے اور صدر بشار الاسد کے اقتدار کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے”۔
ان کا کہنا تھا کہ شامی عوام نے تبدیلی کا انتخاب کرلیا ہے۔ شامی رجیم کو جدید اور قدیم تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ قاہرہ اجلاس میں ترکی ،سعودی عرب، ایران اور مصر کے وزرائے خارجہ بھی شریک تھے۔
مصری صدر کے علاوہ بدھ ہی کو ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے بھی شامی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے انقرہ میں اپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی ( اے کے) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”شامی رجیم ایک ”دہشت گرد ریاست” بن چکا ہے اور وہ اپنے ہی عوام کے خلاف قتل عام کررہا ہے۔شام ہمارے لیے ایک عام ملک نہیں رہا۔اب ہم شام کے معاملے میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتے ہیں”۔
انتقال اقتدار کے لیے چین کی حمایت
شامی صدر بشار الاسد کی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ اٹھارہ ماہ سے اپنے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اب تک تشدد کے واقعات میں چھبیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود شامی صدر دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
حالانکہ اب صدر بشار الاسد کے ایک بڑے حامی ملک چین نے بھی شام میں سیاسی انتقال اقتدار کی حمایت کر دی ہے۔ چین ماضی میں تین مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے۔
چینی وزیر خارجہ یانگ جی چی نے بیجنگ میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں شام کے تمام فریقوں پر تشدد کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ چین شام میں کسی فرد یا جماعت کی حمایت نہیں کر رہا ہے۔
مسٹر یانگ نے تمام اقوام پر زور دیا کہ وہ شام کے تمام فریقوں کو ایک حقیقی اور تعمیری روّیہ اپنانے کے لیے اپنا مثبت اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ وہاں سیاسی مذاکرات اور انتقال اقتدار کا عمل شروع کیا جاسکے لیکن ساتھ ہی انھوں نے تنازعے کے حل کے لیے بیرونی قوت کے استعمال پر خبردار کیا اور کہا کہ یہ چین کے لیے ایک حساس معاملہ ہے۔
ہلیری کلنٹن نے دورے میں چینی وزیر خارجہ کے علاوہ دوسرے قائدین سے شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے اور اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ انھیں چین اور روس کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام مخالف قراردادوں کو ویٹو کیے جانے پر مایوسی ہوئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ان قراردادوں کی منظوری دے دی جاتی تو اس سے شام میں جاری خونریزی کے خاتمے کے لیے صدر بشار الاسد پر دباؤ بڑھایا جا سکتا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…