“العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق اخوان المسلمون کے ایک مرکزی رہ نما یاسر علی نے قاہرہ میں نیوزکانفرنس کے دوران بتایا کہ ان کی جماعت نائب صدر کے عہدے کے لیے دیگر تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ فوری مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں ترجیحی بنیادوں پر ڈاکٹر عبدالمنعم ابو الفتوح اور بائیں بازو کے صدارتی امیدوار حمدین الصباحی کے ساتھ بھی بات چیت کی جائے گی۔ بات چیت میں نائب صدر کے عہدے کے لیے کسی متفقہ امیدوار کے چناؤ کے ساتھ ساتھ نئی وجود میں آنے والی حکومت میں زیادہ سے زیادہ جماعتوں کو شامل کرنے کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ادھر گذشتہ روز جب صدارتی انتخابات کے دوران ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی اور نتائج میں خلاف توقع حسنی مبارک دور کے وزیر اعظم احمد شفیق کے سر فہرست آنے پر اخوان المسلمون نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا۔ اس موقع پراخوان المسلمون کے رہ نماؤں نے احمد شفیق کی کامیابی کو ایک خطرناک اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد مرسی کے مقابلے میں احمد شفیق کامیاب ہوگئے تو یہ “امت کے لیے ایک بڑا خطرہ” ہوگا۔
اس موقع پر اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ “ازادی و انصاف” کے نائب صدر ڈاکٹرعصام العریان نے کہا کہ “ایسے لگ رہا ہے کہ پہلے راؤنڈ میں کامیابی کے بعد اب ان کی جماعت کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی اور احمد شفیق کے درمیان آخری مقابلہ 16 اور 17 جون کے انتخابی راؤنڈ میں ہوگا”۔
ڈاکٹر عصام العریان نے خبردار کیا کہ بعض نادیدہ قوتیں مصری قوم سے انقلاب کے ثمرات سلب کرنا چاہتی ہیں لیکن اس نازک موقع پر تمام سیاسی قوتوں کو حکمت اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انقلاب کو ضائع ہونے سے بچانا ہوگا۔
انہوں نے انکشاف کہ اخوان المسلمون کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی نے دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ بھی مذاکرات کا اغاز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم نے مذاکرات شروع کرکے گیند دوسری سیاسی قوتوں کےکورٹ میں پھینک دی ہے۔
خیال رہے کہ مصر میں صدارتی انتخابات کی گنتی کے دوران غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈاکٹرمحمد مرسی اور احمد شفیق کی حمایت میں ڈالے گئے ووٹوں میں معمولی فرق ہے۔ ڈاکٹر مرسی نے مجموعی طور پر 24 اعشاریہ نو فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل احمد شفیق کے ووٹوں کی تعداد چوبیس اعشاریہ چار فی صد بتائی گئی ہے۔ حمدین الصباحی 21 اعشاریہ ایک فی صد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…