انتہائی معتبر ذرائع نے ’’سنی آن لائن‘‘ کو بتایا: جنوبی بلوچستان کے شہر راسک میں حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب پولیس حکام نے ایک ممتاز عالم دین مولوی عبدالغفار نقشبندی کو گرفتار کیا۔ مولوی عبدالغفار کو ایک پولیس چوکی پر حراست میں لیاگیا جس سے عوام شدید مشتعل ہوگئے۔ اس سے پہلے ان کے والد ’مولانا فتحی محمد نقشبندی‘ اور پارود شہر کے خطیب مولانا عبداللہ ملازادہ سمیت چودہ افراد کو حساس اداروں کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق مولوی عبدالغفارنقشبندی کو زاہدان سے راسک جاتے ہوئے ایک پولیس چوکی پر گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی جس پر وہاں موجود خواتین نے احتجاج کیا۔ خواتین کے احتجاج کے بعد دیگر شہری بھی اپنے ممتاز علماء کی گرفتاری کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
پولیس نے پرامن مظاہرین پر ڈائرکٹ فائر کرکے کم ازکم ایک شہری کو شہید کردیا جس کا نام ’جان محمد دہقانی‘ بتایا جاتاہے۔ ان کے علاوہ دو مزید شہری پولیس کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگئے۔ مولانا نقشبندی کی بلاجواز گرفتاری اور پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی خبر جنگل کی آگ کی طرح علاقے میں پھیل گئی۔
آمدہ اطلاعات کے مطابق ’جکیگور‘ شہر میں بھی بلوچ عوام نے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے علماء کی بلاجواز گرفتاری کیخلاف احتجاج کیا۔
رپورٹس کے مطابق ضلع سرباز میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور سکیورٹی فورسز بڑی تعداد میں علاقے میں گشت کررہی ہیں۔ بری اور فضائی فورسز بڑی تعداد میں علاقے میں موجود ہیں۔
شہید جان محمد دہقانی کی نمازجنازہ منگل کی صبح نو بجے ادا کی گئی جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…