پیرکو ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان کے ساتھ ناٹو سپلائی کی بحالی سمیت دیگرامورپر بات کاسلسلہ منقطع نہیں ہوادوطرفہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے ذمہ دارذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا کی طرف سے سنگین نتائج کی دی جانے والی تازہ ترین دھمکی پرغورکے لیے پیرکو ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی کی زیر صدارت سیاسی اورعسکری قیادت کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہواجس میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی ، وفاقی وزرائے داخلہ ، دفاع ، خزانہ اور خارجہ نے بھی شرکت کی ۔اجلاس میں فوجی قیادت نے ایک بارپھر گیند سیاسی قیادت کی کورٹ میں پھینکتے ہوئے واضح کردیاہے کہ جوبھی فیصلہ کرناہے وہ حکومت ہی کوکرنا ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری قیادت نے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی جانب سے سارے معاملے سے انتہائی غیردانشمندی اوربرے طریقے سے نمٹنے پراپنی شدید ناراضی اور عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ فوجی قیادت نے کہا کہ ناٹوسپلائی کی بحالی کے معاملے کافیصلہ سیاسی قیادت کو کرناہے لیکن کیاوزیرخارجہ نے اس معاملہ پرجواقدامات کیے وہ بروقت تھے ؟ کیا انہوں نے پارلیمانی قراردادوں کے بعدمعاملے پرکوئی فیصلہ کیا؟ ذرائع کے مطابق تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں زمینی راستوں کے ذریعے ناٹو سپلائی کی بحالی کا اصولی فیصلہ کرلیا گیاہے ۔
پیرکوحناربانی کھرنے دباؤکے باعث اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتے ہوئے پریس کانفرنس میں مبہم انداز میںاس معاملے پرمیڈیا کو آگاہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے سلالہ پرناٹوسپلائی بندکرکے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپناموقف واضح کردیا، اب ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، انہوں نے معافی کاکوئی ذکرنہیں کیا،وہ بارباراپناموقف تبدیل کرتی رہیں ۔ پیر کو سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس میں عسکری قیادت نے امریکا میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کی طرف سے مسلسل امریکی اسٹیبلشمنٹ کو دیے گئے اس تاثر کہ ابھی تک صدر زرداری ان کی مکمل حمایت کررہے ہیں اور ان کی تمام تجاویز پر پاکستانی حکومت سنجیدگی سے غور کرے گی ،پر بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔
واشنگٹن سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حسین حقانی فوج اور آئی ایس آئی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کو بدنام کرنے کے لیے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں ، امریکا کویہی کہہ رہے ہیں کہ جب تک فوج اور آئی ایس آئی کو پابند نہیں کیا جاتا تب تک جمہوری حکومت امریکا کی کسی ڈکٹیشن کو تسلیم نہیں کرے گی ۔ ذرائع نے کہا ہے کہ عسکری قیادت کی طرف سے یہ معاملہ اٹھانے پر ایوان صدر نے کہا کہ حسین حقانی کوایوان صدرکی کوئی حمایت حاصل نہیں۔
واضح رہے کہ امریکی ٹی وی کوحالیہ انٹرویومیں حقانی نے امریکی حکومت سے کہا تھا کہ اسے پاکستان پر مزیددباؤ ڈالنا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ کی طرف سے غلط اور تاخیرسے کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کو آج اس صورتحال کا سامنا ہے ۔ چندروزقبل ناٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہاکہ اگرناٹوسپلائی کی اجازت نہیں دی جاتی توپاکستان کوشکاگوسربراہ کانفرنس میں مدعونہیں کیاجائے گاجبکہ بدھ کوامریکی ایوان نمائندگان کے پینل نے اوباما انتظامیہ سے پاکستانی فوج کو عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے آلات اورتربیت کے لیے خصوصی فنڈکے تحت دی جانے والی امداد پر80کروڑڈالرکٹ لگانے کی درخواست کی۔
ادھرامریکی رکن کانگریس ڈانا روہرابیکر نے بھی کانگریس میں پاکستان ٹیررازم اکاؤنٹ ایبلٹی ایکٹ 2012ء متعارف کرایاجس میں انہوں نے پاکستان کے لیے امدادمیں افغانستان میں مارے جانے والے ہر امریکی فوجی پر 50ملین ڈالر کمی کی تجویزپیش کی ۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کوامریکا سے مذاکرات میں حقیقی پیش رفت کرنا ہے تو اسے دفترخارجہ کی سطح پرتبدیلیاں کرناہوںگی کیونکہ وزیر خارجہ اور اس کے ساتھ ساتھ دفتر خارجہ کے حکام کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کی پاکستان کوبھاری قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…