Categories: بيانات

اللہ کی یاد اور درودشریف سے اپنی مجالس کو معطر کریں

خطیب اہل سنت زاہدان حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے اس جمعے کے خطبے کا آغاز قرآنی آیت: ’’فَاذکرونی اذکْرکْم وَاشکروا لِی وَلا تَکفرون‘‘ [بقرہ: 152] کی تلاوت سے کرتے ہوئے ذکر الہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے حوالے سے بعض اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
جامع مسجد مکی زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بیان کے شروع میں کہا: اللہ سبحانہ وتعالی نے مذکورہ آیت مبارکہ سے پہلے چند اہم مسائل کو بیان فرمایاہے جیسا کہ تغییرقبلہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور نزول قرآن؛ اس کے بعد اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو مخاطب کرکے کہا ہے: اے بندو! مجھے یادکرو تا کہ میں بھی تمہیں یاد کروں اور میری نعمتوں کا شکر ادا کیا کرو۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا: انسانیت کو عطا کی گئی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت اور عظیم سرمایہ اللہ کی یاد اور ذکر ہے۔ قرآن پاک میں جس قدر ’ذکرالہی‘ پر تاکید آئی ہے کسی اور عبادت کیلیے نہیں آئی ہے۔ قرآن کریم کا حکم ہے ’کثرت سے‘ ذکراللہ میں مصروف ہوجاؤ حالانکہ نماز، انفاق سمیت دیگر عبادات کیلیے ایسی تعبیر استعمال نہیں ہوئی ہے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: زبان اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے؛ اس کی ذمہ داریوں میں ذکر کرنا شامل ہے۔ اس لیے ہمیں زبان وقلب اور اللہ کی نعمتوں میں غور وفکر کے ذریعے ذکر کرنا چاہیے۔ اللہ سبحانہ وتعالی کو یہ عمل بہت پسند ہے جیسا کہ کتاب اللہ میں آیاہے: ’’فَاذکْرونی اذکرکْم‘‘ تم مجھے یاد کرو میں بھی تمہیں یاد کروں گا۔
اگر ذکر کیلیے صرف یہی ثواب ہوتا تو بھی کافی تھا لیکن ذاکر کیلیے بہت سارے ثواب ہیں۔ حدیث شریف میں آیاہے کہ اگر کوئی بندہ اللہ کو کسی مجلس و محفل میں یاد کرے اللہ تعالی اسے فرشتوں کی محفل میں یاد فرمائے گا۔ اس سے بڑھ کر کیا مقام ہوسکتاہے کہ اللہ رب العزت اپنی لامتناہی عظمت و بزرگی کے باوجود کسی بندے کا نام لیکر اسے اپنے ملائکہ کی مجلس میں یاد کرے!
اخلاص کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ممتاز عالم دین نے کہا: ذکر الہی اخلاص کے ساتھ ہونا چاہیے؛ اللہ کو اس کی رضامندی کے حصول کیلیے یاد کرنا چاہیے ریا کیلیے نہیں جو گناہ ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم انسانوں کی زندگی اس حال میں گزرتی ہے کہ ہم اللہ کی یاد سے غافل رہتے ہیں یا سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: اگر کوئی شخص روزانہ ایک سو مرتبہ ’’سبحان اللہ وبحمدہ‘‘ کا ورد کرے تو اللہ رب العزت اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمائے گا اگرچہ اس کے گناہ سمندر کے جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں، اور قیامت کے دن وہ شخص ایسے اعمال کے ساتھ محشور ہوگا جو دوسرے لوگوں کے پاس نہیں ہوں گے مگر وہ فرد جو اس ورد کو زیادہ پڑھ چکاہو۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے یاد دہانی کرتے ہوئے گویا ہوئے: اللہ کا ذکر بندے کو آفتوں، آسمانی سزاؤں، جہنم، گناہ، تمام مصائب اور بحرانوں سے محفوظ کرتاہے۔ اسی لیے ہر کام میں اللہ کے ذکر سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ جب کوئی شخص گناہ کا ارتکاب کرتاہے تو اس لمحے میں اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے اور اس ذاتِ پاک کو بھول جاتاہے۔
ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے ایک ایسا عمل سکھادیں جس کا ثواب زیادہ ہو۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ہرحال میں اللہ کا ذکر آپ کا رطب اللسان ہو۔
انہوں نے مزیدکہا: قرآن پاک میں بھی تصریح ہوچکی ہے: ’’فَاِذا قضَیتْم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیاما و قْعودا و عَلیٰ جْنوبِکْم‘‘ (پھر جب تم نماز تمام کرچکو تو کھڑے بیٹھے اور لیٹے ہر حالت میں اللہ کو یاد کرو۔) نبی کریم علیہ السلام تمام حالات میں اللہ کی یاد میں مشغول ہوتے۔ آگے آتاہے: ’’وَاشکروا لی وَ لاتکفرون‘‘ میری نعمتوں کا شکر بجا لاؤ اور ناسپاسی نہیں کرو۔ ہمیں اطاعت و فرمانبرداری اور تقوا و خداترسی سے اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر کرنا چاہیے۔
درودشریف کے حوالے سے بعض نکات پیش کرتے ہوئے سرپرست دارالعلوم زاہدان نے کہا: جس طرح ہم اللہ کو ذکر کرتے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔ حدیث نبوی علیہ السلام مٰیں آیاہے: جب کوئی شخص ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتاہے تو اللہ تعالی دس رحمتیں اس پر نازل فرماتاہے، اس کے دس گناہ معاف فرماتاہے اور اس کیلیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔
قرآن پاک میں صراحت کیساتھ ارشاد ہواہے: ’’اِن اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی یا اَیہا الذین آمنوا صلوا علیہ و سلموا تسلیما‘‘، اللہ اور اس کے فرشتے آپﷺ پر درود بھیجتے ہیں تو مؤمنوں کو بھی صلاۃ و سلام بھیجنا چاہیے۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے: بدبخت اور بدنصیب ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا نام لیاجائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ اسی لیے ہمیں بکثرت درود بھیجنا چاہیے جس سے ہمارا تعلق اللہ تعالی اور اس کے رسول برحق سے بڑھ جائے گا۔

انہوں نے مزیدکہا: آپﷺ پر درود بھیجنے میں بہت سارے فائدے ہیں؛ درودشریف کے ذریعے اللہ تعالی مشکلات و مصائب اور آفتوں کو ہم سے دور فرماتاہے۔ اس لیے ہمیں ہرحال میں توجہ اور خلوص کے ساتھ ذکر و درود اور نماز جیسی عبادات بجا لانا چاہیے۔
نماز پڑھتے ہوئے ہمیں قلبی توجہ سے غفلت نہیں کرنی چاہیے۔ نماز ادا کرتے ہوئے ہمیں دنیاوی مسائل چھوڑ کر اللہ کی یاد میں مگن ہونا چاہیے۔ اسی لیے اپنی مجالس و محافل کو اللہ تعالی کی یاد اور درود شریف سے معطر کریں۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago