Categories: پاکستان

بنوں سینٹرل جیل پر حملہ: 400 قیدی فرار

اسلام آباد(خبرایجنسیاں) بنوں شہر کی مرکزی جیل پر اتوار کی صُبح طالبان جنگجوؤں کے ایک منظم حملے میں 400 کے قریب قیدیوں کے فرار ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
بنوں جیل پر حملے کے دوران حملہ آوروں نے دستی بموں کے علاوہ راکٹ کا بھی استعمال کیا۔ اس کی وجہ سے جیل کی بیرونی دیوار میں کئی مقامات پر شگاف پیدا ہو گئے۔ حملے کے دوران 384 قیدیوں کے فرار ہونے کا بتایا گیا ہے۔ ان قیدیوں میں 150 وہ قیدی ہیں، جن کا تعلق طالبان سے ہے۔ صوبے خیبر پختونخوا کے اعلیٰ پولیس افسر شفیق خان نے اس حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ جیل پر فائرنگ اور بم حملے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے اور کارروائی کے دوران اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔
بنوں سینٹرل جیل کے مرکزی گیٹ پر تعینات ایک پولیس اہلکار میر لئیق نے وائس آف امریکہ کی پشتو سروس ’دیوہ‘ سے گفتگو میں حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہ کہا کہ دو ویگنوں میں سوار حملہ آور تقریباً رات ڈیڑھ بجے وہاں پہنچے اور اطراف کی تمام سڑکوں کو بند کر دیا۔
’’حملہ آوروں کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ موجود تھا اور اُنھوں مرکزی گیٹ کو بارودی مداد سے تباہ کر دیا۔‘‘
میر لئیق نے بتایا کہ جنگجو بار بار عدنان رشید کا نام پکار رہے تھے.
پولیس حکام کے مطابق جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں میں کم از کم بیس قیدی انتہائی خطرناک طالبان عسكريت پسند تھے، جوپرتشدد واقعات میں ملوث تھے۔ فرار ہونے والوں میں عدنان رشید بھی شامل ہے جو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے قتل کے وقوعے میں شامل تھا۔ عدنان رشید پاکستان فضائیہ کا ملازم تھا اور اسے موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ کچھ عرصے کے دوران لکی مروت اور کو ہاٹ نامی شہروں سے بھی کئی قیدیوں کو بنوں کی جیل منتقل کیا گیا تھا۔
طالبان کے ایک ترجمان عاصم اللہ محسود نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان کے مطابق ان کے جنگی فائٹرز نے جیل پر حملہ کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق حملے میں کل بارہ سو قیدیوں کو رہائی دلوائی گئی ہے۔ جیل حکام نے طالبان کے دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ جیل حکام کے مطابق ہفتے کی شام کو قیدیوں کی مکمل گنتی کے مطابق ان کی تعداد 944 تھی۔
مسلح افراد کے حملے میں بے شمار قیدیوں کے زخمی ہونے کا بھی بتایا گیا ہے۔ ساتھ ہی جیل میں متعین پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago