Categories: بيانات

اہل سنت کی نماز برداشت نہ کرنا کسی قوم کیلیے شرم کی بات ہے

ممتازسنی عالم دین مولاناعبدالحمید اسماعیلزہی نے اپنے خطبہ جمعہ کے دوران ’یوم اسلامی جمہوریہ‘ کے قومی دن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: 1979ء کے عوامی انقلاب کے بعد اکتیس مارچ 1980ء کو ایرانی قوم نے ریفرنڈم میں شرکت کرکے ’اسلامی جمہوریہ‘ کے حق میں ووٹ ڈالا۔ جمہوریت کا مطلب ہے اکثریت حکومت منتخب کرے اور قوم اپنے ملک چلانے میں آزاد ہو۔ اسی طرح اہم ملکی معاملات میں قوم کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔
ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے مزید کہا: اسی مقصد کے تحت مجلس خبرگان (ماہرین فقہ کی اسمبلی) کو قومی آئین کی تدوین کا کام سونپ دیاگیا تاکہ بعد میں اسے عوام کے سامنے رکھا جائے۔ اگرچہ اس کے بعض شقوں پر اعتراض کیاگیا، جیسا کہ مرحوم مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس شق کی مخالفت کی جس کے رو سے ’’اثناعشری شیعہ‘‘ ملک کا سرکاری مذہب قرار دیاگیا؛ ان کی صریح مخالفت کے باوجود آئین مرتب ہوا جس میں لسانی و مذہبی اقلیتوں کے حقوق و آزادی پر زور دیاگیا۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے خطیب اہل سنت نے مزیدکہا: جس نقطے کو آج کی مناسبت سے واضح کرنا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد ایرانی قوم نے اسلامی نظام کے حق میں ووٹ دیا، اس طرح قوم نے آمریت اور استبداد کی مخالفت کرکے آزادی کے لیے ووٹ ڈالا۔ انہوں نے اس وقت ’ہاں‘ کہہ کر جدید نظام کے سایے میں آزادی کے ساتھ جینے کو ترجیح دی، عوام نے بیان اور میڈیا کی آزادی کیلیے ووٹ دیا اور تمام مذاہب و مسالک کی مذہبی آزادی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا۔ جیسا کہ آئین میں بھی ان باتوں پر زور دیاگیاہے۔
مذکورہ مسئلے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے نامور سنی رہ نما گویاہوئے: قومی آئین کے مطابق حکام پر آئین کے مکمل نفاذ کی ذمہ داری عائد ہے، انہیں اسلام کی حفاظت اور آئین کے بلاامتیاز نفاذ کرنا چاہیے۔ لہذا اکثریت کو اقلیتوں کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی کو اپنے ذاتی خیالات و خواہشوں کو قانون کا رنگ نہیں دینا چاہیے۔ آئین اکثریت اور اقلیت دونوں کے حقوق پر زور دیتاہے؛ اسی لیے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایران شیعوں یا فارسیوں کا ملک ہے، بلکہ ایران اس میں بسنے والے تمام مسالک و مذاہب اور اقوام کا ملک ہے۔ اس پوری قوم کے حقوق کا خیال رکھنا حکام کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بغیر قومی اتحاد حاصل نہیں ہوگا، نہ ہی رجیم کی حفاظت اس کے بغیر ممکن ہے۔
ایک اہم مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایرانی اہل سنت کے روحانی پیشوا نے کہا: بعض بڑے شہروں سے جہاں سنی برادریاں اقلیت میں ہیں ہمیں شکایتیں موصول ہوتی ہیں کہ انہیں باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے، اسی طرح جمعہ و عیدین کی نماز قائم کرنے سے انہیں روک دیاجاتاہے۔ سب سے پہلے ان واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مذکورہ شہروں میں رہنے والے ہمارے سنی بھائی ایمان کے لحاظ سے کمزور ہیں چونکہ اللہ کی عبادت کے سلسلے میں کسی سے ڈرنا اچھی بات نہیں ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: افسوس کی بات ہے کہ بڑے شہروں میں سنی مسلمانوں کی نماز پر حساسیت دکھایاجاتاہے۔ حالانکہ پوری دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے نہیں روکاجاتاہے، کمیونسٹ روس کے دارالحکومت ماسکو میں مسلمان آزادی کے ساتھ مساجد اور سڑکوں پر نماز پڑھتے ہیں اور ان کی کئی مساجد موجود ہیں۔ یہ شرم اور عار کی بات ہے کہ ایران میں سنی مسلمانوں کو باجماعت نماز کی ادائیگی سے روکاجاتاہے، نماز کے حوالے سے حساس ہونا یا دیگر ادیان کے پیروکاروں کو عبادت سے روکنا کسی قوم کیلیے عار کی بات ہے اور اس قوم کے ثقافتی زوال کی علامت ہے۔ نماز اللہ تعالی کی عبادت اور اسلام کا رکن ہے، ہر انسان کا حق ہے کہ نماز ادا کرے، یہ سنی مسلمانوں کا حق ہے کہ تہران سمیت دیگر صوبائی مراکز اور بڑے شہروں میں مسجدیں تعمیر کریں۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے مزید کہا: کسی بھی وقت ایرانی اہل سنت ملک دشمن اور تخریب کاروں کی صفوں میں شامل نہیں ہوئے، ان کے مطالبات قانونی اور آئینی ہیں، سنی برادری مذہبی آزادی کاخواہان ہے، ان کا مطالبہ ہے ملازمتوں کی تقسیم میں ان سے امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے، ہم سب کا مطالبہ ہے کہ سب آئین کی جانب لوٹ آئیں اور طاقتور خود کو کمزور پر فائق نہ سمجھے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ملازمتوں میں اہل سنت سے امتیازی سلوک بند کرنے کی درخواست پر اس لیے ہم زور دیتے چلے آرہے ہیں تاکہ ملک میں تمام اقوام اور مذاہب کو مساوی کے حقوق مل جائیں اور برابری و انصاف کے تقاضے پورے ہوجائیں۔ جب ایک مسلک طاقت حاصل کرے اور پھر دوسرے مسالک کے حقوق کاخیال نہ رکھے تو یہ انصاف کے خلاف ہوگا۔ بعض اوقات دیکھنے میں آتاہے کہ سرحدی فورسز سامان یا تیل سمگلنگ کرنے والوں پر فائرنگ کرتے ہیں، ان کی گاڑیوں کو جلادیتے ہیں جس سے وہ خود بھی جاں بحق ہوجاتے ہیں، یہ خطرناک امر ہے۔ حال ہی میں دو بھائیوں کو زندہ جلادیاگیا۔ صوبائی سکیورٹی حکام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے واقعات کے روک تھام کیلیے کوشش کریں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کل روزِقیامت اللہ تعالی کے سامنے انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ پولیس کو جائز سامان لیجانے والوں پر فائر کھولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،عوام معیشتی مسائل کا شکار ہیں اور ملک بھی معاشی بحرانوں سے دست وگریبان ہے جو اقتصادی پابندیوں کے نتائج ہیں۔ ایسے میں لوگوں کیلیے اسمگلنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں رہاہے۔

نعمتوں سے غفلت، شکرگزاری سے غفلت کی وجہ ہے

حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے اپنے خطبے کے پہلے حصے میں اللہ رب العزت کی نعمتوں میں غوروفکر اور ان پر شکر ادا کرنے کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گویاہوئے: جس مسئلے میں ہم سب کوتاہی و سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ اللہ کا شکر ادا کرناہے۔ ہم اللہ کی تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن ان کی عظمت پر غور نہیں کرتے؛ اللہ تعالی نے ہمیں ایسی نعمتوں سے نوازا ہے جن کی قدرو قیمت اور اہمیت کا اندازہ ہم نہیں لگاسکتے۔
انہوں نے مزیدکہا: نعمتوں میں غورو فکر نہ کرنے کی وجہ سے ہم شکر ادا کرنے میں غافل ہوجاتے ہیں۔ انسان کسی نعمت کا شکر اس وقت ادا کرتا ہے جب اس نعمت کی عظمت و اہمیت پر واقف ہو۔ اگر ہم اپنے آس پاس پر نظر دوڑائیں تو اپنے آپ کو اللہ سبحانہ و تعالی کی ظاہری و معنوی نعمتوں میں مستغرق پائیں گے۔ اللہ نے ہمیں ہماری بقا و فائدہ کیلیے کئی نعمتوں سے نوازا ہے۔ لیکن ہم غفلت اور ناشکری کا شکار ہیں۔ ایک آکسیجن کی مثال لیجئے؛ جو لوگ مصنوعی طریقے سے سانس لیتے ہیں ان سے اس عظیم نعمت کی اہمیت کے بارے پوچھیں۔ جو مختلف امراض کا شکار ہیں ان سے صحت کی نعمت کی اہمیت معلوم کریں۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: ہمیں ان تمام نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان پر غور کرنا چاہیے۔ پھر ان کا شکر ادا کرنا چاہیے، شکر صرف زبانی نہیں ہوتا بلکہ عمل سے بھی شکرگزاری کا ثبوت دینا چاہیے۔ اللہ کے تمام احکامات پر عمل کرنا چاہیے؛ جو نماز نہیں پڑھتا، حج پر نہیں جاتا حالانکہ مالی استطاعت رکھتا ہے تو وہ شاکر بندہ نہیں ہے۔ لہذا شکر گناہوں اور معاصی سے اجتناب کرنے سے ممکن ہے۔ اگر ہم اللہ کا شکرگزار بندہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں دل اور زبان سے عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: بعض اوقات ہم زندگی میں قحط اور طوفان جیسے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں، ان میں بھی حکمتیں ہیں جیسا کہ اللہ تعالی ہمیں یاد دلانا چاہتا ہے کہ ہم نے شکرگزاری نہیں کی ہے، اللہ تعالی ہمیں یاد دلاتاہے کہ ہمارے اعمال کی وجہ سے جانور بھی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔ اللہ ہماری اصلاح و تزکیہ چاہتاہے۔ تو اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس ذات پاک نے طوفان اور قحط سے ہمیں یاددہانی کرائی اور آسمان سے پتھر نہیں بھیجا۔
خطیب اہل سنت نے مزیدکہا: اللہ کی معرفت اس کی نعمتوں اور کائنات میں تفکر سے حاصل ہوجاتی ہے، اس لیے ہمیں معرفت کے حصول کیلیے کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ایسے لوگوں کی تعریف کی ہے جو اس کی نعمتوں میں غور و تدبر کرتے ہیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago