Categories: افغانستان

قندھار میں امریکی فوجی کے ہاتھوں بچوں سمیت 16 افراد ہلاک

كابل(ایجنسیاں) افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں اتوار کے روز ایک امریکی فوجی نے گھروں پر فائرنگ کر کے پندرہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی فوجی کے ہاتھوں 15 شہریوں کے قتل پر امریکی فوج سے وضاحت طلب کر لی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی افراد کے حوالے سے بتایا کہ آزاد ذرائع سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی درست تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے تاہم اس واقعے میں کم از کم پندرہ شہریوں کے ہلاک ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔
اپنے ایک بیان میں حامد کرزئی نے کہا ہے کہ قندھار میں امریکی فوجی کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت افسوسناک واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فائرنگ جان بوجھ کر کی گئی اور شہریوں کی ہلاکت ناقابل معافی ہے۔
افغانستان میں نیٹو کے آیساف مشن نے کہا ہے کہ ’قندھار صوبے میں افغان ہلاکتوں کے حوالے سے فوجی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔‘ آیساف نے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔
نجیبین دیہات سے تعلق رکھنے والے ایک شخص حاجی صمد نے اے ایف پی کو بتایا، ’’میرے خاندان کے گیارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب ہلاک ہو چکے ہیں۔‘‘ الوک زئی دیہات کے حاجی سعید جان کا کہنا تھا کہ اس کے گھر پر حملہ کیا گیا جس میں اس کے خاندان کے چار افراد ہلاک ہوئے۔
صوبائی گورنر کے ترجمان احمد جاوید فیصل کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد دس اور سولہ کے درمیان ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا، ’’صبح تین بجے کے قریب ایک امریکی سپاہی اپنے فوجی اڈے سے نکلا اور اس نے شہریوں پر فائرنگ کر دی۔ دس سے سولہ کے درمیان افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔‘‘
مغربی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد کی تو نہیں مگر واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ایک مغربی عہدیدار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا: ’’ایک فوجی الصبح فوجی اڈے سے نکلا اور اس نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد وہ بیس پر واپس آیا۔ اس کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘‘ آیساف کا کہنا ہے کہ وہ افغان حکام کے ساتھ مل کر اس واقعے کی تحقیقات کریں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ نیٹو کی جانب سے مسلمانوں کی مقدس کتاب کو دانستہ یا غیر دانستہ نذر آتش کرنے کے بعد افغانستان میں پر تشدد مظاہرے ہوئے تھے، جن میں نیٹو کے فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔
نیٹو نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر دانستہ قرار دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد مبصرین نے کہا تھا کہ نیٹو کو افغانستان میں اپنی حمایت میں اضافہ کرنے کے لیے اس نوعیت کے واقعات سے بچنا چاہیے۔ تاہم اب امریکی فوجی کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت معاملات مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

1 hour ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago