Categories: پاکستان

حکومت اور فوج کےدرمیان معاہدہ طے

اسلام آباد(خبرايجنسياں) پاکستان میں سیاسی قائدین اور فوج کے درمیان تناﺅ کی شدت میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے اور لگتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاگیا ہے۔
یہ بات عالمی میڈیا کی مختلف رپورٹس میں سامنے آئیں۔
اس حوالے سے امریکی روزنامے نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم نے اب فوجی قیادت کے ساتھ تناﺅ میں کمی لانے کی کوششیں شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک مزید طاقتور اداروں کے درمیان تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
اخبار نے بھی وزیراعظم کے اس نرم بیان کو منگل کی شب آرمی چیف سے ہونے والی ملاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غیر معمولی ملاقات دونوں فریقین کے درمیان تناﺅ میں کمی کا اشارہ ہے۔
اخبار کے مطابق 2 ہفتے قبل پاکستان میں فوجی بغاوت کی افواہیں عام تھیں اور دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف انتہائی سخت بیانات سامنے آرہے تھے، اور فوجی قیادت کے کیس پر بیانات جمع کرانے کو وزیراعظم کی جانب سے غیر آئینی قرار دینے پر سنگین نتائج کے انتباہ کے بعد صدر نے مصالحتی کوششیں شروع کرتے ہوئے آرمی چیف سے ملاقات کی، جس کے بعد وزیراعظم کے بدھ کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ چہرے بچانے کا کوئی معاہدہ طے پاگیا ہے۔
اخبار کے مطابق صورتحال میں بہتری آنے کی ایک وجہ میمو اسکینڈل کے مرکزی کردار منصور اعجاز کا پاکستان نہ پہنچنا بھی ہے، جس کی وجہ سے اس بڑے تنازعے کی تحقیقات تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔
نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ 9 فروری کو پیشی کا آخری موقع دینے کے بعد پاکستانی میڈیا نے بھی منصور اعجاز کی ساکھ پر سوالات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں۔
اس کا مزید کہنا ہے کہ وزیراعظم نے فوج اور حکومت کے درمیان بداعتماد کا ذمہ دار سابق سیکرٹری دفاع نعیم خالد لودھی کو قرار دے دیا ہے جنھیں 11 جنوری کو برطرف کر دیا گیا ھتا۔
اب حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلینج یکم فروری کو وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہے، یہ وہ کیس ہے جو صدر اور وزیراعظم کی روانگی کا سبب بن سکتا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے طاقت ور فوجی جنرلوں کے خلاف اپنی تنقید کو کم کیا ہے۔
اخبار کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے دونوں فریقین میں واشنگٹن کو لکھے گئے خفیہ میمو کے باعث شدید تناﺅ پیدا ہو گیا تھا، جس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی چیلینجز سے حکومت کے لئے کئی مسائل پیدا ہوگئے تھے۔
میمو تنازعے پر فوج نے بغاوت کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے اس معاملے کو حکومتی توقعات کے برخلاف سپریم کورٹ میں تحقیقات کے لئے بھیجا، جس کے بعد وزیراعظم اور فوج کے درمیان الفاظ کی جنگ شروع ہوگئی، جسے اب یوسف رضا گیلانی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ان کے الفاظ اس وقت سامنے آئے جب ان کی ایک روز قبل آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی سربراہ لیفٹننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے ملاقات ہوئی، جس سے صورتحال میں بہتری آنے کا شارہ ملا۔
اخبار کا تجزیہ کاروں کے حوالے سے مزید کہنا ہے کہ فوج براہ راست حکومت پر چڑھائی کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ حکومت کو آئینی طریقے سے ختم کیا جاسکے۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago