خراسان کے سنی مدارس کے مہتممین اور مدرسین نے ایک کھلے خط کے ذریعے حکومتی شورائے منصوبہ بندی کی جانب سے تقسیم کیے گئے ’’پارسیان‘‘ کریڈٹ کارڈز قبول نہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے لکھاہے: حکومت اور آیت اللہ خامنہ ای کے ہدایا و مالی تحفوں کو قبول کرنے کے موافق ہیں لیکن ’’پارسیان کارڈز‘‘ ہرگز نہیں لیں گے، چونکہ یہ کام حکومتی شورا کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔
خراسان میں سپریم لیڈر کے نمایندہ دفتر کی جانب سے ’’اجازت تدریس برائے اساتذہ‘‘ نامی پیپرز کو مسترد کرتے ہوئے ممتاز علمائے کرام نے شیعہ مراجع اور مرشداعلی خامنہ ای کی استقلال مدارس پر تاکید اور ایرانی آئین کی روشنی میں شورائے منصوبہ بندی برائے مدارس اہل سنت کے احکامات ماننے سے معذرت کا اظہار کیاہے۔
اس سے قبل سیستان وبلوچستان کے سرکردہ علماء و شخصیات نے بیان جاری کرتے ہوئے حکومتی شورائے منصوبہ بندی سے اپنی واضح مخالفت کا اعلان کیاہے۔
یاد رہے چند سال پہلے صدراحمدی نژاد کے ماتحت ادارہ ’’سپریم کلچرل کونسل‘‘ نے سنی مدارس پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ’’شورائے منصوبہ بندی برائے مدارس اہل سنت ایران‘‘ کو تاسیس کیا تھا، سنی علمائے کرام اور اہل مدارس کی شدید مخالفت کے باوجود مذکورہ حکومتی ادارہ اپنے غیرآئینی اقدامات کے نفاذ کی کوشش کرتی چلی آرہی ہے جس میں اب مزید شدت آئی ہے۔
’’شورائے منصوبہ بندی سنی مدارس‘‘ جس کے اکثر ارکان شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اہل سنت کے مدارس کے تعلیمی نصاب میں تبدیلی لاسکتا ہے اور ان کے مہتممین سمیت دیگر اساتذہ کو برطرف یا متعین کرنے کا حق بھی اپنے لیے محفوظ سمجھتاہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید