جنگجووں نے قصبے پر چاروں طرف سے حملہ کیا اور مقامی پولیس کی معمولی مزاحمت کے بعد علاقے پر قابض ہوگئے۔ردا کی آبادی 60ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
یمن کی سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ابو یحییٰ نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ردا کو القاعدہ سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگجووں کا اگلا ہدف اب مارب ہوگا جس پر قبضے کی صورت میں وہ دارالحکومت صنعا کے مزید قریب پہنچ جائیں گے۔صوبہ ابیان میں بھی متعدد قصبے القاعدہ کے کنٹرول میں آچکے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…