جنگجووں نے قصبے پر چاروں طرف سے حملہ کیا اور مقامی پولیس کی معمولی مزاحمت کے بعد علاقے پر قابض ہوگئے۔ردا کی آبادی 60ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
یمن کی سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ابو یحییٰ نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ردا کو القاعدہ سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگجووں کا اگلا ہدف اب مارب ہوگا جس پر قبضے کی صورت میں وہ دارالحکومت صنعا کے مزید قریب پہنچ جائیں گے۔صوبہ ابیان میں بھی متعدد قصبے القاعدہ کے کنٹرول میں آچکے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…