جنگجووں نے قصبے پر چاروں طرف سے حملہ کیا اور مقامی پولیس کی معمولی مزاحمت کے بعد علاقے پر قابض ہوگئے۔ردا کی آبادی 60ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
یمن کی سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ابو یحییٰ نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ردا کو القاعدہ سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگجووں کا اگلا ہدف اب مارب ہوگا جس پر قبضے کی صورت میں وہ دارالحکومت صنعا کے مزید قریب پہنچ جائیں گے۔صوبہ ابیان میں بھی متعدد قصبے القاعدہ کے کنٹرول میں آچکے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…