پاکستانی نژاد ڈاکٹر علی ماجد دنیا کے پہلے نابینا جج ہیں جو 14 سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور جج کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر ماجد سیکنڈ ایئر کے طالب علم تھے تو قدرتی طور پر انکی بینائی ختم ہوگئی لیکن انہوں نے تمام مشکلات کے باوجود تعلمی سرگرمیاں جاری رکھیں اور پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد برطانیہ سے ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کرلی۔
ڈاکٹر ماجد کے لئے 2003 میں برطانوی ہاؤس آف کامن میں ایک قانون پاس ہوا جس کے بعد نا بینا شخص بھی جج کے فرائص سر انجام دے سکتاہے۔
دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرنے والے ڈاکٹر ماجد پاکستان میں نابینا افراد کے لئے روزگار میں خصوصی معاونت کر رہے ہیں اور وہ ان کے لیے اسپتال بھی بنانا چاہتے ہیں جہاں غریب نابینا افراد کا مفت علاج کیا جائے گا۔
ڈاکٹر امیر علی ماجد کو حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز اور امن ایوارڈبھی مل چکا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…