شہریوں کی بڑی تعداد ان کی ایک جھلک دیکھنے آزاد میدان مسجد ہیرآباد میں موجود تھی۔ تاہم کرکٹ شائقین کو اس وقت سخت مایوسی کا سامنا پڑا جب محمد یوسف نے ملاقات سے معذرت کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ دورہ خالصتاً تبلیغی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے بھی اجتناب برتا۔
محمد یوسف نے آزاد میدان مسجد میں بعد نماز عصر تا عشاءدرس دیا اور صرف اسلام کے بارے میں ہی عوام کے سوالات کے جوابات دئیے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے دین اسلام کو سب سے اچھا مذہب سمجھ کر ہی قبول کیا ہے۔ تبیلغ دین اور اسلام کی تعلیمات کو اجاگر کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور جوکلمہ طیبہ سے مستفید ہوچکے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ عوام میں جاکر تبلیغ کریں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار