شہریوں کی بڑی تعداد ان کی ایک جھلک دیکھنے آزاد میدان مسجد ہیرآباد میں موجود تھی۔ تاہم کرکٹ شائقین کو اس وقت سخت مایوسی کا سامنا پڑا جب محمد یوسف نے ملاقات سے معذرت کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ دورہ خالصتاً تبلیغی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے بھی اجتناب برتا۔
محمد یوسف نے آزاد میدان مسجد میں بعد نماز عصر تا عشاءدرس دیا اور صرف اسلام کے بارے میں ہی عوام کے سوالات کے جوابات دئیے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے دین اسلام کو سب سے اچھا مذہب سمجھ کر ہی قبول کیا ہے۔ تبیلغ دین اور اسلام کی تعلیمات کو اجاگر کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور جوکلمہ طیبہ سے مستفید ہوچکے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ عوام میں جاکر تبلیغ کریں۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید