مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دس سالہ امریکی حمایت کے بعد بھی پاکستان کی سا لمیت پر حملے جاری ہیں۔اُن کاکہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک پر حملے کی دھمکی دی گئی اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ امریکی حمایت کے باعث ملک میں 35ہزار بے گناہ شہری شہید ہوئے اور 170ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ آقا اور غلام جیسا تعلق قائم نہیں رہ سکتا،عزت وقار اور برابری کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو زرداری، نوازشریف ،اسفندیار ،عمران اور الطاف حسین کی جمہوریت قبول ہے تاہم جے یو آئی کی جمہوریت قبول نہیں کیونکہ ہم اسلامی تہذیب جبکہدیگرسیاسی جماعتیں مغربی تہذیب کی ترجمانی کرتی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جے یو آئی مسلح جہدوجہد کے خلاف ہے تاہم گوانتانامو بے میں ہونے والی قرآن کی بے حرمتی پر ہمارے ساتھ کون روئے گا،ہم مسلح جہدوجہد کے حامی نہیں تاہم بیرونی جارحیت کی صورت میں جہاد ضرور کیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دینا میں کیمونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کے بعد اسلام کے عادلانہ نظام کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید