یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ہزاروں مظاہرین نے صدر صالح اور ان کے قریبی ساتھیوں کو استثنیٰ دینے پر شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اور ان کے ساتھی شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہیں اور ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ یمنی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کردی اور واٹر کینن اور آنسو گیس کے شیل بھی داغے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق فائرنگ سے 9 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے۔ مظاہرین پر تشدد کے چند گھنٹے بعد صدر علی عبداللہ صالح نے اعلان کیا کہ وہ امریکا چلے جائیں گے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب روانہ ہوں گے تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یمن میں دوبارہ سیاسی کردار ادا کریں گے۔
علی عبداللہ صالح گذشتہ ماہ اختیارات اپنے نائب صدر منصور ہادی کو سونپ چکے ہیں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار