یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ہزاروں مظاہرین نے صدر صالح اور ان کے قریبی ساتھیوں کو استثنیٰ دینے پر شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اور ان کے ساتھی شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہیں اور ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ یمنی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کردی اور واٹر کینن اور آنسو گیس کے شیل بھی داغے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق فائرنگ سے 9 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے۔ مظاہرین پر تشدد کے چند گھنٹے بعد صدر علی عبداللہ صالح نے اعلان کیا کہ وہ امریکا چلے جائیں گے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب روانہ ہوں گے تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یمن میں دوبارہ سیاسی کردار ادا کریں گے۔
علی عبداللہ صالح گذشتہ ماہ اختیارات اپنے نائب صدر منصور ہادی کو سونپ چکے ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان