یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ہزاروں مظاہرین نے صدر صالح اور ان کے قریبی ساتھیوں کو استثنیٰ دینے پر شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اور ان کے ساتھی شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہیں اور ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ یمنی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کردی اور واٹر کینن اور آنسو گیس کے شیل بھی داغے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق فائرنگ سے 9 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے۔ مظاہرین پر تشدد کے چند گھنٹے بعد صدر علی عبداللہ صالح نے اعلان کیا کہ وہ امریکا چلے جائیں گے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب روانہ ہوں گے تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یمن میں دوبارہ سیاسی کردار ادا کریں گے۔
علی عبداللہ صالح گذشتہ ماہ اختیارات اپنے نائب صدر منصور ہادی کو سونپ چکے ہیں۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید