مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ نیٹو کی سپلائی بند کرنا مثبت ا قدام ہے، حکومت مستقل طور پر اس فیصلہ پر قائم رہے اور اب اس نام نہاد جنگ سے باہر نکل جانا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ بلیک واٹر کے نام پر آنے والے امریکیوں کو واپس بھیج دینا چاہئے اور امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل ہونا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ خفیہ معاہدوں کو بھی منظر عام پر لایا جائے ، میمو اسکینڈل نے پورے ملک کے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اعظم سواتی کے استعفے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مولانا نے کہا کہ استعفے کا تعلق ان کی اپنی ذات سے ہے، ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومت بہترانداز میں چل رہی ہوتی تو ہم الگ نہ ہوتے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…