مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ نیٹو کی سپلائی بند کرنا مثبت ا قدام ہے، حکومت مستقل طور پر اس فیصلہ پر قائم رہے اور اب اس نام نہاد جنگ سے باہر نکل جانا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ بلیک واٹر کے نام پر آنے والے امریکیوں کو واپس بھیج دینا چاہئے اور امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل ہونا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ خفیہ معاہدوں کو بھی منظر عام پر لایا جائے ، میمو اسکینڈل نے پورے ملک کے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اعظم سواتی کے استعفے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مولانا نے کہا کہ استعفے کا تعلق ان کی اپنی ذات سے ہے، ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومت بہترانداز میں چل رہی ہوتی تو ہم الگ نہ ہوتے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…