ادھر رسدکاسلسلہ رکنے کے باعث افغانستان میں ناٹو کو پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت کاسامنا ہے جبکہ چمن بارڈر ٹرمینل میں سیکڑوں کنٹینرز اور آئل ٹینکرز جمع ہو گئے ۔
اتوارکودفترخارجہ کے ذرائع کے مطابق امریکی حکام پرواضح کردیاگیاہے کہ ناٹوفورسزکی سپلائی اسی صورت بحال کی جاسکتی ہے جب پاکستان کوتحریری طورپریہ یقین دہانی کرائی جائے کہ آئندہ اس کی خودمختاری کامکمل احترام کیاجائے گا‘سلالہ چیک پوسٹ پرحملے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی‘ناٹوحملے جیساواقعہ دوبارہ پیش نہیں آئے گیا اور غیرمشروط طورپرامدادکی فراہمی جاری رہے گی ۔
ذرائع نے بتایاکہ مہمندایجنسی میں ناٹو حملہ سے قبل بھی متعددبار امریکا پرواضح کیاگیاتھاکہ اگرپاکستان کی خودمختاری پرحملہ ہوتووہ امریکا کے ساتھ تعاون پرنظرثانی کرسکتاہے۔
دوسری جانب امریکی سفارتخانے کے نائب ترجمان رابرٹ رینز نے بتایاکہ ناٹوکی سپلائی کی بحالی کے لیے پاکستان اورامریکا کے حکام کے درمیان مذاکرات جاری ہیں ۔انہوں نے کہاکہ امریکا پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات اورتعاون چاہتاہے جودونوں ممالک کے مفاد میں ہے ۔دریں اثناءافغانستان میں ناٹو فورسز کے لیے تیل‘خوراک اوردیگراشیا ءکی فراہمی کاسلسلہ اتوارکو نویں روز بھی بند رہا جس کی وجہ سے افغانستان میں ناٹو فورسز کو پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت کاسامنا ہے‘چمن بارڈر ٹرمینل میں سیکڑوں کنٹینرز اور آئل ٹینکرز جمع ہو گئے اورشدید سردی میں ڈرائیوروں سمیت دیگرعملہ پریشانی کا شکار ہے۔
واضح رہے کہ 26نومبرکومہمندایجنسی میں پاک فوج کی سلالہ چیک پوسٹ پرناٹوہیلی کاپٹروں کے حملے کے بعد افغانستان میں تعینات ناٹو و اتحادی افواج کو پاکستان کے راستے خوراک‘ ایندھن اور فوجی گاڑیاں لے جانے والے قافلوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی جو تاحال برقرار ہے اس کے علاوہ پاکستانی حکومت نے امریکا کو شمسی ائربیس 15 دن میں خالی کرنے کی ڈیڈلائن دی تھی جس کے پیش نظرامریکی حکام نے شمسی ائربیس خالی کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ پاکستان نے ناٹوحملے کے خلاف احتجاجاً بون کانفرنس کا بھی بائیکاٹ کیا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام