Categories: مشرق وسطی

مصر میں مظاہرے، جھڑپیں، تیرہ افراد ہلاک

قاہرہ(بى بى سى) مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جن میں اب تک کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
قاہرہ کے مرکزی تحریر سکوائر پر مظاہرین نے دوبارہ قبضہ کرلیا ہے جہاں سے انہیں سکیورٹی فورسز نے ہٹادیا تھا۔
سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا تھا تاہم وہ ایک گھنٹے کے اندر مصر کے فوجی حکمرانوں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے دوبارہ تحریر سکوائر پر جمع ہوگئے۔
یورپی یونین نے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
قاہرہ کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں جن میں اسکندریہ، سوئز اور اسوان شامل ہیں۔
اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں محکمۂ صحت کے اہلکاروں کے مطابق گیارہ افراد جبکہ ہفتہ کو دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان جھڑپوں میں کم و بیش نو سو کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں چالیس کے لگ بھگ سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
مظاہرین میں چند گیس کے ماسک پہنے ہوئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ مصر کے فوجی حکمران اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ مظاہرے ایسے وقت ہورہے ہیں جب ایک ہفتے بعد ملک میں پہلی بار پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں۔ ان انتخابات کی راہ سابق صدر حسنی مبارک کی فروری میں اقتدار سے علٰیحدگی کے بعد ہموار ہوئی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے مصری حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف تشدد کو بند کرے۔
انہوں نے کہا ’میں امن اور برداشت کی درخواست کرتی ہوں اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل دشوار گزار ہوتا ہے۔‘
کیتھرین ایشٹن نے کہا ’میں اس بات کا اعادہ کرتی ہوں کہ عبوری حکام اور تمام متعلقہ جماعتوں کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو سُنیں اور ان کی جمہوری خواشات کا تحفظ کریں۔‘
قاہرہ میں بی بی سی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں حالیہ مہینوں میں ہونے والی شدید جھڑپیں ہیں۔
پارلیمانی انتخابات اٹھائیس نومبر کو منعقد کرائے جارہے ہیں۔
نومبر کے شروع میں مصر کے فوجی حکمرانوں نے ایک مجوزہ دستاویز تیار کی ہے جس میں نئے آئین کے رہنماء اصول متعین کیے گئے ہیں۔
ان رہنماء اصولوں کے تحت فوج کو سویلین غلطیوں پر اور اپنے بجٹ کی بابت استثنٰی حاصل ہوگا۔
مصری فوجی حکمرانوں کے ان اقدامات پر مظاہرین کو خدشہ ہے کہ جن مقاصد کے لیے انہوں نے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف جدوجہد کی وہ اب رائیگاں ہوتی نظر آرہی ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago