سرکاری ذرائع کے مطابق بلوچستان میں کراچی سے نیٹو سپلائی دو راستوں سے ہوتی ہے ان میں ایک راستہ درہ بولان اور دوسرا قلات ڈویڑن سے ہوتا ہوا چمن جاتا ہے۔
بلوچستان میں نیٹو سپلائی پر حملوں کا آغاز2009کے اوائل میں درہ بولان سے ہوا۔سرکاری اعدادوشمارکے مطابق 2009سے اب تک بلوچستان کے دس اضلاع میں نیٹو سپلائی پر112 حملے ہوئے جن میں 254آئل ٹینکر اور ٹرالرکو فائرنگ اور آگ لگا کر تباہ کیا گیا،ان حملوں میں پچاس ڈرائیور اور کلینر لقمہ اجل اور36زخمی ہوئے۔پچھلے تین سال میں بلوچستان میں سب سے زیادہ حملے قلات ڈویژن میں ہوئے جہاں 60مرتبہ نیٹو کی سپلائی کو نشانہ بناکر نوے آئل ٹینکر اورٹرالر کونقصان پہنچایا گیا۔
ضلع کوئٹہ میں بھی نیٹو سپلائی پرگیارہ مرتبہ حملہ کیا جن میں 42آئل ٹینکر جل کرراکھ بن گئے۔بلوچستان میں پچھلے تین سال کے دوران نیٹو سپلائی پر ہونے والے حملوں کے بیشتر ملزمان قانون کی گرفت میں نہ آسکے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…