میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی آمد کو سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھایا گیا ہے۔ طرابلس پہنچنے پر مصطفی عبدالجلیل کے حامیوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ ان کی آمد کے موقع پر طرابلس ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ انہوں نے لیبیا کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔
مبصرین کے مطابق مصطفیٰ عبدالجلیل کی طرابلس آمد اوران کا پرجوش استقبال اس امرکی دلیل ہے کہ طرابلس پران کا قبضہ مضبوط ہے اور انہیں لیبیائی عوام کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل ہے۔
درایں اثناء جنوبی افریقہ ملک گنی بساوٴ کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ ان کا ملک لیبیا کے کرنل معمر قذافی کو اپنے ہاں پناہ دینے پر تیار ہے۔
ریڈیو نے وزیراعظم کارلوس گومیس گونیور کا ایک بیان نشر کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے اگر کرنل قذافی نے ان کے ہاں پناہ کی خواہش ظاہر کی تو وہ اس کا دلی طور پرخیر مقدم کریں گے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…