میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی آمد کو سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھایا گیا ہے۔ طرابلس پہنچنے پر مصطفی عبدالجلیل کے حامیوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ ان کی آمد کے موقع پر طرابلس ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ انہوں نے لیبیا کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔
مبصرین کے مطابق مصطفیٰ عبدالجلیل کی طرابلس آمد اوران کا پرجوش استقبال اس امرکی دلیل ہے کہ طرابلس پران کا قبضہ مضبوط ہے اور انہیں لیبیائی عوام کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل ہے۔
درایں اثناء جنوبی افریقہ ملک گنی بساوٴ کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ ان کا ملک لیبیا کے کرنل معمر قذافی کو اپنے ہاں پناہ دینے پر تیار ہے۔
ریڈیو نے وزیراعظم کارلوس گومیس گونیور کا ایک بیان نشر کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے اگر کرنل قذافی نے ان کے ہاں پناہ کی خواہش ظاہر کی تو وہ اس کا دلی طور پرخیر مقدم کریں گے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…