ڈی آئی جی پولیس آپریشنز حامد شکیل کے مطابق ایک خود کش حملہ آور نے کمشنر آفس کے قریب ڈی آئی جی ایف سی کی رہائش گاہ پر معمور ایف سی کی گاڑی کو نشانہ بنایا اور اس کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جبکہ اسی اثناء میں ایک اور خود کش حملہ آور فائرنگ کرتا ہوا ڈی آئی جی ایف سی کی رہائش گاہ میں داخل ہوگیا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا.
ان حملوں کے نتیجے میں تین ایف سی اہلکاروں سمیت 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے نتیجے میں 40سے زائد افراد زخمی ہوگئے،دھماکے سے ایف سی کے ڈی آئی جی فرخ شہزاد کی اہلیہ اور کرنل خالد بھی جاں بحق ہوگئے۔
ڈائریکٹر سول ڈیفنس کے مطابق دھماکوں میں100کلو گرام سے زائد بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکوں سے تین رکشوں اور ایک گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا جبکہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، خود کش حملوں کے بعد جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کردیا گیا، علاقہ کو گھیرے میں لے لیاگیا، واقعہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…