’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق تہران کی سکیورٹی پولیس نے اپنے فورسز کو مختلف مقامات پر متعین کردیا تھا جہاں سنی برادری کی نمازعید کیلیے مختص مکانات کو بلاک کیاگیا، فورسز نے کرایے کے مکانات کو اپنے حصار میں لینے کے بعد آنے والے عبادتگزاروں کو داخل ہونے سے روک دیا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے مذکورہ مکانات کو نشاندہی کے بعد وہاں رہنے والے افراد کے شناختی کارڈز اپنے قبضے میں لیاہے۔
اطلاعات ہیں کہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی سنی برادری کو عیدالفطر کی نماز پڑھنے سے روک دیاگیاہے جہاں سنی مسلمان اقلیت میں ہیں۔
یاد رہے تہران دنیا میں واحد دارالحکومت ہے جہاں سنی مسلمانوں کی کوئی مسجد نہیں ہے، لوگ پنج وقتہ نمازوں اور جمعہ و عیدین کی ادائیگی کیلیے کرایے کے مکانات میں اپنے مالک کی عبادت کرنے پر مجبور تھے، لیکن اب انہیں مذکورہ مکانات میں بھی باجماعت نماز پڑھنے سے روک دیاگیاہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار