’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق تہران کی سکیورٹی پولیس نے اپنے فورسز کو مختلف مقامات پر متعین کردیا تھا جہاں سنی برادری کی نمازعید کیلیے مختص مکانات کو بلاک کیاگیا، فورسز نے کرایے کے مکانات کو اپنے حصار میں لینے کے بعد آنے والے عبادتگزاروں کو داخل ہونے سے روک دیا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے مذکورہ مکانات کو نشاندہی کے بعد وہاں رہنے والے افراد کے شناختی کارڈز اپنے قبضے میں لیاہے۔
اطلاعات ہیں کہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی سنی برادری کو عیدالفطر کی نماز پڑھنے سے روک دیاگیاہے جہاں سنی مسلمان اقلیت میں ہیں۔
یاد رہے تہران دنیا میں واحد دارالحکومت ہے جہاں سنی مسلمانوں کی کوئی مسجد نہیں ہے، لوگ پنج وقتہ نمازوں اور جمعہ و عیدین کی ادائیگی کیلیے کرایے کے مکانات میں اپنے مالک کی عبادت کرنے پر مجبور تھے، لیکن اب انہیں مذکورہ مکانات میں بھی باجماعت نماز پڑھنے سے روک دیاگیاہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…