ذرائع نے ‘‘مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو بتایا ہے کہ فتح تنظیم کے زیر انتظام مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے دحلان کے تمام ساتھیوں کو حراست میں لیے لیا ہے جن میں ابوعلی شاھین، توفیق ابو خوصہ، سفیان ابو زایدہ اور سکیورٹی گارڈ کے سربراہ ابو خالد شنب شامل ہیں۔ اسی طرح دحلان کے زیر استعمال کار بھی اتھارٹی نے قبضے میں لے لی ہے۔ جس کے بعد دحلان کو اردن جانے کے لیے ’’الکرامہ‘‘ کراسنگ سے گزرنے کی اجازت دے دی گئی۔
خیال رہے کہ جمعرات کی صبح اتھارٹی فورسز نے دحلان کے گھر پر حملہ کرکے کم از کم بیس افراد کو گرفتار، مختلف اقسام کا اسلحہ، متعدد کمپیوٹرز، اہم دستاویزات اور مختلف پیغام رسانی کے آلات پر قبضہ کر لیا تھا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے اس گھر پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا اس دوران دحلان کے متعدد ساتھیوں اور گارڈز کو حراست میں لیے لیا گیا، آپریشن کے دوران کوڑا کرکٹ اٹھانے والی تین گاڑیوں نے مسجد التقوی کی قریبی آبادی کو جانے والے راستے کو بند کر دیا، جس کے بعد فوجی جیپوں نے اس گھر کو گھیرے میں لے لیا اور سکیورٹی اہلکار فائرنگ کرتے ہوئے گھر میں داخل ہو گئے اس موقع پر پورے گھر پر بآسانی قبضہ کرلیا گیا اور دحلان کے کسی گارڈ نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان