Categories: مشرق وسطی

شام:سکیورٹی فورسز کی فائرنگ ،11شہری جاں بحق

دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ) شام کی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع ایک قصبے میں حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی کے دوران گیارہ شہریوں کو ہلاک کردیا ہے۔

لندن میں قائم شام آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسزنے ٹینکوں اور بلڈوزروں کے ساتھ دمشق سے تیس کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع قصبے حرستا کا محاصرہ کررکھا ہے۔ اس قصبے کے مکینوں نے فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی۔وہ اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر احتجاج کررہے تھے۔
سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں اور ان کا قصبے کی مساجد میں علاج کیا جارہا ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ حرستا میں چھاپہ مار کارروائی سے قبل شامی حکام نے قصبے کی بجلی اور ٹیلی فون کنکشن منقطع کردیے تھے۔
شام کی انسانی حقوق کی ایک اورقومی تنظیم کے سربراہ عمار الکربی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج کے انٹیلی جنس ایجنٹوں نے اس قصبے سے تین سوافراد کو گرفتار کرلیا ہے اور انھیں گیارہ چھوٹی بسوں کے ذریعے دوسرے علاقوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
فوری طور پر شامی حکام نے حرستا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا جبکہ شامی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں پر دمشق سے باہر جانے پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں یا پھر انھیں ملک سے نکال باہر کیا ہے جس کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کی بشارالاسد کے مخالفین کے خلاف کارروائیوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔
شام میں مارچ سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران اب تک ایک ہزار چھے سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں ہی کی تعداد میں شہریوں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا ہے۔شامی حکومت دہشت گردوں اور غیرملکی انتہا پسندوں کو ملک میں بدامنی کی ذمے دار قراردے رہی ہے۔
درایں اثناء شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی ہے کہ کابینہ نے منگل کی رات سیاسی جماعتوں سے متعلق مجوزہ قانون کی توثیق کردی ہے جس کے تحت نئی قائم کی جانے والی جماعتیں بھی آیندہ پارلیمانی اور مقامی کونسلوں کے انتخابات میں حصہ لے سکیں گی۔اب اس قانون کو حتمی منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ لیکن حزب اختلاف کے لیڈروں نے حکومت کے اس اقدام کو مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کی رخصتی سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے۔

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago