العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے مندوبین کا کہنا ہے کہ حلب شہر میں سیکیورٹی فورسز نے فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے شہری کے لواحقین کے گھر کے باہر لگایا گیا تعزیتی کیمپ اکھاڑ دیا۔ شہر میں کشیدگی برقرار ہے اور حلب میں کرفیو نافذ ہے۔
العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق “دوما” میں “النصرہ” کے مقام پر خواتین نے احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی میں شہر میں حکومت مخالف احتجاج کی تحریک کے دوران گرفتار کیے گئے مظاہرین کی بیگمات اور ان کے اہل خانہ شریک تھے۔ مظاہرین نے حکومت سے تمام اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے میں خواتین نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر صدربشارالاسد کی حکومت کے خلاف اور انقلابیوں کے حق میں نعرے درج تھے۔
العربیہ ٹی وی کے مطابق دمشق میں وکلاء نے بھی قصر العدلی کے باہر تین گھنٹے تک احتجاجی دھرنا دیا۔ وکلا دو روز سے لاپتہ اپنے ایک وکیل ساتھی عصام خداج کی رہائی کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے۔
اُدھر درعا شہر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق رات گئے المسیفرہ کے مقام پر شہریوں کی بڑی تعداد نے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ملک کے تیسرے بڑے شہر حمص سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے تمام اہم مقامات پر سیکیورٹی فورسز کے دستے متمرکز ہیں۔ فوج ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور توپ خانے کے ہمراہ سڑکوں پر گشت کر رہی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حمص میں باب السباع، الدریب، خالدیہ، القصور، البیاضہ اور بعض دیگر مقامات پر فوج کی بھاری نفری تعینات ہے۔
حمص سے انسانی حقوق کے ایک مندوب نے العریہ ٹی وی کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے کنٹرول سمنبھالنے کے بعد شہر میں مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ انٹر نیٹ، لینڈ لائن اور موبائل فون کی سروسز معطل ہیں۔ حمص میں کریک ڈاؤن کے دوران متعدد افراد کے حراست میں لیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان